الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ وَأَنَّهَا وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
حدیث نمبر: 1152
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وَتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ مغرب، دن کی نماز کا وتر ہے، پس رات کی نماز کو بھی وتر بنایا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری حصے میں وتر ایک رکعت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1152]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوْا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وقد رواه عدة موقوفا۔ أخرجه النسائي في الكبري: 1382، وعبد الرزاق: 4675، وابن ابي شيبة: 2/ 282، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5549»
وضاحت: فوائد: … بہرحال یہ تو ثابت ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور اس کے آخر میں ایک کعت وتر ادا کیا جا سکتا ہے۔ وتر اگرچہ رات کے آخری حصہ میں پڑھنا افضل ہے۔ لیکن یہ عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر سے پہلے تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ (بخاری: ۹۹۶) (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوْا صَلَاةَ اللَّيْلِ
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1152 in Urdu