الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبي بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11617
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ابْنَةُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ هَذِهِ الْأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَا لَنَا بِهَا قَالَ ”كَفَّارَاتٌ“ قَالَ أَبِي وَإِنْ قَلَّتْ قَالَ ”وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا“ قَالَ فَدَعَا أَبِي عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لَا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ فِي أَنْ لَا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ وَلَا عُمْرَةٍ وَلَا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ فَمَا مَسَّهُ إِنْسَانٌ إِلَّا وَجَدَ حَرَّهُ حَتَّى مَاتَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11617]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 995، والحاكم: 4/ 308،والنسائي في الكبري: 7489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11201»
وضاحت: فوائد: … دنیوی تکالیف گناہوںکا کفارہ بنتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11617 in Urdu