الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبي بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11616
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أُبَيُّ أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ ذُكِرْتُ هُنَاكَ قَالَ نَعَمْ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَفَرِحْتَ بِذَلِكَ قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ {قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ} قَالَ مُؤَمَّلٌ قُلْتُ لِسُفْيَانَ هَذِهِ الْقِرَاءَةُ فِي الْحَدِيثِ قَالَ نَعَمْ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابی! اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے سامنے فلاں سورت کی تلاوت کروں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے ہاں میرا نام لیا گیاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ عبداللہ بن ابزیٰ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو منذر! کیایہ بات سن کر آپ کو خوشی ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: خوشی کیوں نہ ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:{قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذٰلِکَ فَلْتَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُوْنَ} … اے نبی! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ تم اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش رہو، یہ لوگ جو دنیوی مال و اسباب جمع کرتے ہیں،یہ اس سے بہتر ہے۔ (چونکہ قرآن کریم کی قرأت متواترہ فَلْیَفْرَحُوْا ہے)، امام احمد کے شیخ مؤمل سے مروی ہے کہ میں نے اپنے شیخ سفیان سے دریافت کیا، کیایہ قرأت فَلْتَفْرَحُوْا حدیث میں ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11616]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح اخرجه ابوداود: 3980، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21455»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح اخرجه ابوداود: 3980
حدیث نمبر: 11617
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ابْنَةُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ هَذِهِ الْأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَا لَنَا بِهَا قَالَ ”كَفَّارَاتٌ“ قَالَ أَبِي وَإِنْ قَلَّتْ قَالَ ”وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا“ قَالَ فَدَعَا أَبِي عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لَا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ فِي أَنْ لَا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ وَلَا عُمْرَةٍ وَلَا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ فَمَا مَسَّهُ إِنْسَانٌ إِلَّا وَجَدَ حَرَّهُ حَتَّى مَاتَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11617]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 995، والحاكم: 4/ 308،والنسائي في الكبري: 7489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11201»
وضاحت: فوائد: … دنیوی تکالیف گناہوںکا کفارہ بنتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 11618
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ”إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا}“ قَالَ وَسَمَّانِي لَكَ قَالَ ”نَعَمْ“ فَبَكَى
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورۂ بینہ کی تلاوت کروں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیاہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11618]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3809، 4959،ومسلم: 799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12345»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3809
حدیث نمبر: 11619
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أُبَيًّا قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي تَلَقَّيْتُ الْقُرْآنَ مِمَّنْ تَلَقَّاهُ وَقَالَ عَفَّانُ مِمَّنْ يَتَلَقَّاهُ مِنْ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ رَطْبٌ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! میں نے قرآن کریم براہ راست اس ہستی سے سنا اور سیکھا ہے جنہوں نے جبریل علیہ السلام سے حاصل کیا، جبکہ وہ تروتازہ تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11619]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الحاكم: 2/ 225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21429»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 11620
عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَتَرَكَ آيَةً فَقَالَ ”أَيُّكُمْ أَخَذَ عَلَيَّ شَيْئًا مِنْ قِرَاءَتِي“ فَقَالَ أُبَيٌّ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قَدْ عَلِمْتُ إِنْ كَانَ أَحَدٌ أَخَذَهَا عَلَيَّ فَإِنَّكَ أَنْتَ هُوَ“
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور بھول کر ایک آیت ترک کر گئے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کسی کو قرأت میں میری غلطی کا احساس ہوا ہے؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے پتہ چل گیا تھا، آپ فلاں آیت چھوڑ گئے ہیں۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پتہ تھا کہ اگر کسی کا اس کا ادراک ہو گا تو وہ تم ہی ہو گے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11620]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير الجارود بن ابي سبرة، وھو صدوق لكنه لم يسمع من ابي، اخرجه البخاري في القراء ة خلف الامام: 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21605»
وضاحت: فوائد: … بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھول جانا، یہ بشری تقاضا ہے، اس سے منصب ِ نبوت متاثر نہیں ہوتا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز میں بھی بھول جانے کی چند صورتیں موجود ہیں،یہ حقیقت الگ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بھول پر برقرار نہیں رکھا جاتا، بلکہ فوراً اس کا ازالہ کر دیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات غير الجارود بن ابي سبرة
حدیث نمبر: 11621
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ ”أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ“ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَرَدَّدَهَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ آيَةُ الْكُرْسِيِّ قَالَ ”لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ“
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: اللہ کی کتاب میں کونسی آیت سب سے زیادہ عظمت کی حامل ہے؟ انہوں نے جواباً عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار بار یہی سوال کیا، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ آیت الکرسی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو المنذر! تمہیں یہ علم مبارک ہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس آیت کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں اور یہ اللہ کے عرش کے پائے کے قریب اللہ تعالیٰ کی تقدیس اور پاکی بیان کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب في فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11621]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 810، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21602»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کتنی توجہ سے قرآن مجید کی تلاوت کی ہو گی اور اس کے مضمون پر کتنا غور کیا ہو گا کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک آیت کے بارے میں درست جواب دیا۔
تمام روایات سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی عظمت اور منقبت کا بیان ہے۔
تمام روایات سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی عظمت اور منقبت کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 810