الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى أبى بن كعب رضى الله عنه
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11620
عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَتَرَكَ آيَةً فَقَالَ ”أَيُّكُمْ أَخَذَ عَلَيَّ شَيْئًا مِنْ قِرَاءَتِي“ فَقَالَ أُبَيٌّ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قَدْ عَلِمْتُ إِنْ كَانَ أَحَدٌ أَخَذَهَا عَلَيَّ فَإِنَّكَ أَنْتَ هُوَ“
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور بھول کر ایک آیت ترک کر گئے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کسی کو قرأت میں میری غلطی کا احساس ہوا ہے؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے پتہ چل گیا تھا، آپ فلاں آیت چھوڑ گئے ہیں۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پتہ تھا کہ اگر کسی کا اس کا ادراک ہو گا تو وہ تم ہی ہو گے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11620]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير الجارود بن ابي سبرة، وھو صدوق لكنه لم يسمع من ابي، اخرجه البخاري في القراء ة خلف الامام: 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21605»
وضاحت: فوائد: … بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھول جانا، یہ بشری تقاضا ہے، اس سے منصب ِ نبوت متاثر نہیں ہوتا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز میں بھی بھول جانے کی چند صورتیں موجود ہیں،یہ حقیقت الگ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بھول پر برقرار نہیں رکھا جاتا، بلکہ فوراً اس کا ازالہ کر دیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير الجارود بن ابي سبرة
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11620 in Urdu