یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب ما جاء فى جعفر بن أبى طالب وأولاده رضى الله عنهم
سیدنا جعفر بن ابی طالب اور ان کی اولادکا تذکرہ
حدیث نمبر: 11664
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سَارَّةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَوْ رَأَيْتَنِي وَقُثَمَ وَعُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَيْ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَنَحْنُ صِبْيَانٌ نَلْعَبُ إِذْ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى دَابَّةٍ فَقَالَ ”ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ“ قَالَ فَحَمَلَنِي أَمَامَهُ وَقَالَ لِقُثَمَ ”ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ“ فَجَعَلَهُ وَرَاءَهُ وَكَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَبَّ إِلَى عَبَّاسٍ مِنْ قُثَمَ فَمَا اسْتَحَى مِنْ عَمِّهِ أَنْ حَمَلَ قُثَمًا وَتَرَكَهُ قَالَ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا وَقَالَ كُلَّمَا مَسَحَ ”اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ“ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ مَا فَعَلَ قُثَمُ قَالَ اسْتُشْهِدَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ وَرَسُولُهُ بِالْخَيْرِ قَالَ أَجَلْ
خالد بن سارہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن جعفر نے اسے بتلایا کہ کاش تم مجھے، سیدنا قثم بن عباس اور سیدنا عبید اللہ بن عباس کو دیکھتے، جب ہم بچے کھیل رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہمارے قریب سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اٹھا کر مجھے پکڑا دو اور آپ نے مجھے اپنے آگے سواری پر سوار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قثم کے متعلق فرمایا کہ اسے بھی میری طرف اٹھاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے پیچھے سوار کر لیا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو قثم سے زیادہ عبید اللہ سے محبت تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا سے اس بات کی جھجک محسوس نہیں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قثم کو اپنے ساتھ سوار کر لیا اور عبید اللہ کو سوار نہ کیا، پھر آپ نے تین بار میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ہر دفعہ یہ دعا کی: یا اللہ! جعفر کی اولاد میں تو ان کا خلیفہ بن جا۔ خالد بن سارہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر سے دریافت کیا کہ سیدنا قثم کی موت کیسے واقع ہوئی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ وہ شہید ہوئے تھے۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی خیر اور بھلائی کو بہتر جانتے ہیں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، واقعی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11664]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الحاكم: 1/ 372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1760»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11664 in Urdu