🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب ما جاء فى عبد الله بن سلام رضى الله عنه
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11787
عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَوْجَزَ فِيهَا، فَقَالَ الْقَوْمُ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا خَرَجَ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ فَحَدَّثْتُهُ، فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ، قُلْتُ لَهُ: إِنَّ الْقَوْمَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ الْمَسْجِدَ، قَالُوا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ، وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ، إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرَ مِنْ خُضْرَتِهَا وَسَعَتِهَا وَسَطُوهَا، عَمُودُ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ، فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ، فَقِيلَ لِي: اصْعَدْ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: هُوَ الْوَصِيفُ، فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي، فَقَالَ: اصْعَدْ عَلَيْهِ، فَصَعِدْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَالَ: اسْتَمْسِكْ بِالْعُرْوَةِ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: ”أَمَّا الرَّوْضَةُ فَرَوْضَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَعَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى، أَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ“، قَالَ: وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں موجود تھا کہ ایک شخص آیا، اس کے چہرے پر خشوع و خضوع کے آثار نمایاں تھے، اس نے اندر آکر دو مختصر رکعتیں ادا کیں، لوگ کہنے لگے کہ یہ جنتی آدمی ہے، جب وہ باہر گیا تو میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ وہ گھر میں داخل ہوا تو میں بھی ان کے پیچھے اندر چلا گیا اور اس سے باتیں کیں۔ جب میں اس سے اور وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تو میں نے اس سے کہا: تم جب مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں نے تمہارے متعلق اس قسم کی باتیں کی تھیں۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! کسی بھی آدمی کو کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جسے وہ اچھی طرح جانتا نہ ہو، میں تمہیں ان کی اس بات کی وجہ بتلاتا ہوں، میں نے ایک خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کیا تھا، میں نے دیکھا گویا کہ میں ایک پررونق سرسبز باغ میں ہوں۔ حدیث کے ایک راوی ابن عون نے کہا کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس باغ کی سرسبزی، رونق اور اس کی وسعت کا بھی ذکر کیا کہ وہ باغ انتہائی خوبصورت با رونق اور بہت زیادہ وسیع و عریض تھا۔ اس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون تھا۔ جس کا نیچے والا حصہ زمین میں اور اوپر والا حصہ آسمان تک تھا، اس کے سرے پر ایک کڑا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ۔ میں نے کہا کہ میں تو اس پر نہیں چڑھ سکتا، اتنے میں ایک خادم نے آکر میرے پیچھے سے میرے کپڑے کو اٹھا کر کہا: اوپر چڑھ جاؤ، چنانچہ میں اس پر چڑھ گیا،یہاں تک کہ میں نے اس کڑے کو پکڑ لیا، اس نے مجھ سے کہا اس کڑے کو مضبوطی سے پکڑ لو، اتنے میں میں بیدار ہوگیا، جب میں بیدار ہوا تو اس وقت وہ میرے ہاتھ میں تھا، میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس خواب کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باغ سے اسلام کا باغ مراد ہے، ستون سے اسلام کا ستون مراد ہے اور کڑا سے مراد مضبوط کڑا (یعنی ایمان) ہے، اس خواب کا مفہوم یہ ہے کہ تم مرتے دم تک اسلام پر قائم رہو گے۔ سیدنا قیس بن عباد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں کہ وہ شخص سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11787]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3813، 7014،ومسلم: 2484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24196»
وضاحت: فوائد: … یہ بہت خوبصورت خواب ہے اور اس کی تعبیر تو سونے پہ سہاگہ ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 11787 in Urdu