🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب ما جاء فى عبد الله بن مسعود الشهير بابن أم عبدرضي الله عنه
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11833
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ ”يَا غُلَامُ هَلْ مِنْ لَبَنٍ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ قَالَ ”فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ“ فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَنَزَلَ لَبَنٌ فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ ”اقْلِصْ“ فَقَلَصَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ هَذَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ ”فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِنَّكَ غُلَيِّمٌ مُعَلَّمٌ“ (وَفِي رِوَايَةٍ) قَالَ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِصَخْرَةٍ مَنْقُورَةٍ فَاحْتَلَبَ فِيهَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ وَشَرِبْتُ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُلْتُ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقُرْآنِ قَالَ ”إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ“ قَالَ فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کابیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریا ں چرایا کرتا تھا، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! دودھ مل سکتا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، لیکن یہ میرے پاس امانت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس ریوڑ میں کوئی ایسی بکری ہے، جس کی ابھی تک نر سے جفتی ہی نہ ہوئی ہو؟ تو میں ایک بکری پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو دودھ اتر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن میں دودھ دوہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا (یعنی پہلے کی طرح ہو جا)۔ پس وہ سکڑ کر اپنی پہلی حالت میں ہو گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اس کے بعد ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ دعا مجھے بھی سکھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: تجھ پر اللہ کی رحمت ہو، تو سیکھا سکھایا، پڑھا پڑھایا بچہ ہے۔ دوسری روایت میں ہے: ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں پیالےیا برتن کی طرح کا ایک پتھر لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں دودھ دوہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیا اور میں نے بھی پیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے اس کے بعد ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ مجھے بھی اس قرآن میں سے کچھ سکھا دیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پڑھا پڑھایا بچہ ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نے ستر سورتیں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پڑھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11833]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الطيالسي: 353، والطبراني في الكبير: 8455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4412»

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 11833 in Urdu