🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب ما جاء فى العباس بن عبد المطلب رضى الله عنه عم النبى ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11835
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ ”هَذَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَجْوَدُ قُرَيْشٍ كَفًّا وَأَوْصَلُهَا“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا: یہ عباس بن عبد المطلب ہیں، جو کہ قریش میں سب سے زیادہ فراخ دست (یعنی سخی) اور سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11835]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 1077، وابويعلي: 820، وابن حبان: 7052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1610»
وضاحت: فوائد: … سیدناعباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں، ان کی کنیت ابوالفضل ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوتین سال بڑے تھے، قبل از اسلام قریش کے سردار تھے، مسجد حرام کے انتظامات اور حجاج کو پانی پلانے کا کام ان ہی کے ذمے تھا، بیعت ِ عقبہ میں جب انصاری لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر موجود تھے، غزوۂ بدر میں مجبور ہو کر کفار کی طرف سے شریک ہوئے اور گرفتار ہو گئے، ان کے دو بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث بھی قید ہوئے تھے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا اور اپنے دونوں بھتیجوں کا فدیہ ادا کیا اور مکہ جا کر اسلام قبول کر لیا، فتح مکہ سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں شریک ہوئے، غزوۂ حنین کے شروع میں جب صحابۂ کرام شکست کھا گئے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ (۳۲یا۳۴) سن ہجری میں (۸۸)برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 11835 in Urdu