یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى أبى أبوب الأنصاري رضى الله عنه
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11901
عَنْ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْجَيْشِ الَّذِي غَزَا فِيهِ أَبُو أَيُّوبَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ إِذَا مِتُّ فَاقْرَؤُوا عَلَى النَّاسِ مِنِّي السَّلَامَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ“ وَلْيَنْطَلِقُوا بِي فَلْيَبْعُدُوا بِي فِي أَرْضِ الرُّومِ مَا اسْتَطَاعُوا فَحَدَّثَ النَّاسَ لَمَّا مَاتَ أَبُو أَيُّوبَ فَاسْتَلْأَمَ النَّاسُ وَانْطَلَقُوا بِجِنَازَتِهِ
عاصم نے مکہ کے ایک باشندے سے روایت کیا ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ شریک تھے، ان کی وفات کے وقت یزید ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے کہا: میری وفات ہو تو میری طرف سے لوگوں کو سلام کہنا اور انہیں بتلا دینا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو کوئی اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا تھا، اللہ اسے جنت عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد یہ لوگ میری میت کو اٹھا کر روم کی حدود میں جہاں تک ممکن ہو دورلے جائیں، پس جب سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تویزید نے لوگوں کو ان کے انتقال کی خبر دی،لوگوں نے اپنے ہتھیار زیب تن کر لیے اور ان کی میت کو لے کر چل پڑے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11901]
تخریج الحدیث: «صحيح بمجموع طرقه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23920»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا اصل نام خالد بن زید ہے، ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، یہ بیعت عقبہ، غزوہ بدر، غزوہ احد، خندق اور بیعت رضوان میں شریک ہونے کی سعادت سے بہر مند ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کے بعد مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میز بانی کا شرف حاصل ہوا، (دیکھیں حدیث نمبر۱۰۶۲۱)۔(۵۰یا۵۱یا۵۲) سن ہجری میں فوت ہوئے اور ان کی قبر قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) میں ہے۔ اس وقت یہ اس لشکر میں تھے جس کی قیادتیزید بن معاویہ کر رہے تھے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ ان کی نماز جنازہ یزید پڑھائے، چنانچہ یزید نے ہی ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11901 in Urdu