🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب مَا جَاءَ فِي الرُّمَبْصَاءِ أَوِ الْعُمَيْصَاءِ أَمْ سُلَيْمٍ وَالدةِ انَسِ بْنِ مَالِكِ وَزَوْجَةِ أَبِي طَلْحَةَ الأنصاري رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11988
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ ”أَعِيدُوا تَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ وَسَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ“ ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَلِأَهْلِهَا بِخَيْرٍ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً قَالَ ”وَمَا هِيَ“ قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ قَالَ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ وَقَالَ ”اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ“ قَالَ فَمَا مِنَ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَكْثَرُ مِنِّي مَالًا وَذَكَرَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً غَيْرَ خَاتَمِهِ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّ ابْنَتَهُ الْكُبْرَى أُمَيْنَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَيِّفًا عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے آپ کی خدمت میں کھجوریں اور گھی پیش کیا،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روزے سے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کھجوریں ان کے تھیلے میں اور گھی اس کے ڈبے میں واپس رکھ دو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر آپ نے سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے حق میں برکت کی دعا کی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک خصوصی درخواست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہے، اس کے حق میں خصوصی دعا کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر کی میرے حق میں دعا کر دی اور فرمایا: یا اللہ! اسے بہت سا مال اور اولاد عنایت فرما اور اس کے لیے ان میں برکت فرما۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ تمام انصار میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ دولت نہیں، جبکہ اس سے پہلے ان کے پاس صرف ایک انگوٹھی تھی اور ان کی بڑی بیٹی امینہ نے بتلایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے حجاج بن یوسف کے آنے سے پہلے تک اپنی اولاد میں سے تقریباً ایک پچیس چھبیس افراد کو دفن کیا گیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11988]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1982، 6334،ومسلم: 2480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12076»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۶۳۴)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1982


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11988 in Urdu