الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب مَا جَاءَ فِي الرُّمَبْصَاءِ أَوِ الْعُمَيْصَاءِ أَمْ سُلَيْمٍ وَالدةِ انَسِ بْنِ مَالِكِ وَزَوْجَةِ أَبِي طَلْحَةَ الأنصاري رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11989
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَتْ مَعَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَإِذَا مَعَ أُمِّ سُلَيْمٍ خِنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْكُفَّارِ أَبْعَجُ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا غزوۂ حنین کے موقع پر اپنے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں، اس روز سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک خنجر تھا، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: ام سلیم!یہ آپ کے پاس کس لیے ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میں نے اس لیے ساتھ رکھا ہے کہ اگر کوئی کافر میرے قریب آیا تو میں اس کے ساتھ اس کے پیٹ کو چاک کر دوں گی۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ ام سلیم رضی اللہ عنہ کی بات سن رہے ہیں، وہ تو یوں کہہ رہی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جن لوگوں کو مکہ میں آزاد کیا ہے ان کا ایمان کم زور ہے، وہ منافق ہیں، آپ ان کو قتل کر دیں۔ اے اللہ کے رسول! وہ آپ کو اکیلے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری مددکی اور خوب مدد کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11989]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14049 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14095»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی بات سے راضی نہیں ہوئے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں کے ساتھ مہربان اور رحم دل تھے۔
غزوۂ حنین کے موقع پر ایک بار مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں سخت رویہ پیش کیا، لیکن دو بارہ مسلمان سنبھل گئے اور اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کر دی۔
خواتین کا جہاد میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ کتاب الجھاد میں اس تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
غزوۂ حنین کے موقع پر ایک بار مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں سخت رویہ پیش کیا، لیکن دو بارہ مسلمان سنبھل گئے اور اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کر دی۔
خواتین کا جہاد میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ کتاب الجھاد میں اس تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1809
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11989 in Urdu