🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب مَا جَاءَ فِي الرُّمَبْصَاءِ أَوِ الْعُمَيْصَاءِ أَمْ سُلَيْمٍ وَالدةِ انَسِ بْنِ مَالِكِ وَزَوْجَةِ أَبِي طَلْحَةَ الأنصاري رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11990
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا انْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَادَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا انْهَزَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَى“ قَالَ فَأَتَاهَا أَبُو طَلْحَةَ وَمَعَهَا مِعْوَلٌ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَعَجْتُهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْظُرْ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ حنین کے دن جب مسلمان شکست کھا گئے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آواز دی: اے اللہ کے رسول!جولوگ ہم سے بعد والے ہیں، آپ انہیں قتل کر دیں،یہ لوگ آپ کو اکیلے چھوڑ کر نکل بھاگے ہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری خوب مدد کی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ان کے پاس ایک گینتی دیکھی اورپوچھا: ام سلیم! یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا:اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! دیکھئے، ام سلیم کیا کہہ رہی ہے؟ [الفتح الربانی/حدیث: 11990]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12081»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ وہاں قیلولہ کرتے اور ام سلیم رضی اللہ عنہ گھر پر موجود نہ بھی ہوتیں تو ان کے بستر پر آرام فرماتے۔ بعض احادیث میں ام حرام کے گھر جانے کا ذکر بھی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ام حرام رضی اللہ عنہ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔ یہ قباء میں ایک ہی گھر میں رہتی تھیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1809


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11990 in Urdu