الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى أم حرام خالة أنس بن مالك رضى الله عنهما
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11994
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَضَحِكَ، فَقَالَتْ: مِمَّ ضَحِكْتَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ”مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ.“ قَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ.“ فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ: فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنِهَا قَرَظَةَ حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ، فَوَقَصَتْ بِهَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتْ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنت ِ ملحان کے پاس ٹیک لگائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر مبارک اٹھایا، سیدہ بنت ِ ملحان رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا: میری امت کے کچھ لوگ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اس سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، ان کی مثال تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ پھر اس خاتون نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی اور اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر شروع کیا، واپسی پر جب وہ ساحل کے پاس اپنی ایک سواری پر سوار ہوئی تو اس نے اس کو یوں گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی، سو وہ گری اور فوت ہو گئی۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11994]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13826»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، جن کا ذکر ابھی گزرا ہے، کی بہن ہیں۔ یہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جاتے اور ان کے ہاں دوپہر کو آرام فرمایا کرتے تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں، (۲۷یا۲۸) سن ہجری میں بحری غزوہ سے واپسی پر ان کی وفات ہوئی۔
دیکھیں حدیث نمبر (۴۸۳۷)
دیکھیں حدیث نمبر (۴۸۳۷)
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13826
Al-Fath al-Rabbani Hadith 11994 in Urdu