🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ما جاء فى أم خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص رضى الله عنه
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11995
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ: ”مَنْ تَرَوْنَ أَحَقَّ بِهَذِهِ؟“ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ: ”ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ.“ فَأُتِيَ بِهَا فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهَا ثُمَّ قَالَ لَهَا مَرَّتَيْنِ: ”أَبْلِي وَأَخْلِقِي.“ وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ أَوْ أَصْفَرَ وَيَقُولُ: ”سَنَا سَنَا يَا أُمَّ خَالِدٍ.“ وَسَنَا فِي كَلَامِ الْحَبَشِ الْحَسَنُ.
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے، ان میں ایک چھوٹی سی ایک اونی چادر بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم اس چادر کا سب سے زیادہ کس کو مستحق سمجھتے ہو؟ صحابۂ کرام خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس لاؤ۔ پس اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے وہ کپڑا اسے پہنا دیا اور دو دفعہ فرمایا: تم اس کو بوسیدہ کرو، تم اس کو بوسیدہ کرو (یعنی تم زندہ رہو اور دیر تک اسے استعمال کرو)۔ اور آپ اس چادر کے اوپر موجود سرخ یا زرد علامات کو اچھی طرح دیکھتے اور فرماتے: ام خالد! بہت اچھے، بہت اچھے۔ حدیث میں وارد لفظ سناہ حبشی زبان کا ہے، اس کے عربی میں معانی عمدہ، اچھا اور بہترین کا ہے۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 11995]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2874، 5823، 5845، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27597»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا اموی خاندان کی خاتون ہیں، ان کی شہرت کنیت سے ہے۔ ان کا اصل نام امۃ ہے، ان کو اور ان کے والدین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور ان کی اہلیہ ہمینہ بنت خلف بھی ان کے ساتھ تھیں، وہیں ان کی بیٹی امہ کی ولادت ہوئی، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح ہوا تھا،انہوںنے کا فی طویل عمر پائی، بلکہ امام بخاری کہتے ہیں کہ خواتین میں سے کسی نے ان جتنی عمر نہیں پائی۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2874


Al-Fath al-Rabbani Hadith 11995 in Urdu