🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب ما جاء فى أم ورقة بنت عبد الله بن الحرث الأنصاري رضي الله عنها
سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12006
عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهَا كُلَّ جُمُعَةٍ وَأَنَّهَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَوْمَ بَدْرٍ أَتَأْذَنُ فَأَخْرُجُ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ وَأُدَاوِي جَرْحَاكُمْ لَعَلَّ اللَّهَ يُهْدِي لِي شَهَادَةً قَالَ ”قَرِّي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُهْدِي لَكِ شَهَادَةً“ وَكَانَتْ أَعْتَقَتْ جَارِيَةً لَهَا وَغُلَامًا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا فَطَالَ عَلَيْهِمَا فَغَمَّاهَا فِي الْقَطِيفَةِ حَتَّى مَاتَتْ وَهَرَبَا فَأَتَى عُمَرُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ قَدْ قَتَلَهَا غُلَامُهَا وَجَارِيَتُهَا وَهَرَبَا فَقَامَ عُمَرُ فِي النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ وَرَقَةَ يَقُولُ انْطَلِقُوا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ وَإِنَّ فُلَانَةَ جَارِيَتَهَا وَفُلَانًا غُلَامَهَا غَمَّاهَا ثُمَّ هَرَبَا فَلَا يُؤْوِيهِمَا أَحَدٌ وَمَنْ وَجَدَهُمَا فَلْيَأْتِ بِهِمَا فَأُتِيَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبَيْنِ
سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کے دن ان کی ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے، بدر کے موقع پر انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کے ساتھ چلوں تاکہ مریضوں کی تیمار داری اور زخمیوں کا علاج معالجہ کروں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مقام شہادت عطا فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر ہی ٹھہری رہو، اللہ تعالیٰ تمہیں یہیں شہادت سے سرفراز کرے گا۔ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام اور لونڈی کو مدبر کیا تھا (یعنی انہوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ میری وفات کے بعد یہ دونوں آزاد ہوں گے۔) مگر اللہ کی قدرت کہ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہ کی عمر طویل ہو گئی اور ان دو غلام اور لونڈی نے اپنی آزادی کے لالچ میں ان کے منہ اور ناک پر کس کر کپڑا لپیٹ کر ان کا سانس بند کرکے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور خود فرار ہوگئے۔ امیر المومنین سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں مقدمہ گیا اور ان سے کہا گیا کہ ان کو ان کے غلام اور لونڈی نے قتل کیا ہے اور خود فرار ہوگئے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر خطاب کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لیے جایا کرتے اور کہا کرتے تھے کہ آؤ شہیدہ کی ملاقات کو جائیں۔ ان کی فلاں لونڈی اور فلاں غلام نے ان کا سانس گھونٹ کر ان کو قتل کر دیا ہے اور فرار ہوگئے ہیں، کوئی بھی آدمی ان دونوں کو پناہ نہ دے اور جسے وہ دونوں ملیں، وہ ان کو ہمارے ہاں پیش کرے۔ چنانچہ ان دونوں کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور انہیں پھانسی دے دی گئی، سب سے پہلے ان دونوں کو پھانسی دی گئی تھی۔ [الفتح الربانی/كنى الصحابيات/حدیث: 12006]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن خلاد وجدّةِ الوليد بن عبد الله، اخرجه ابوداود: 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27825»

الحكم على الحديث: ضعیف

Al-Fath al-Rabbani Hadith 12006 in Urdu