الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. الباب الأول فيما جاء أن النبى لم يتخلف قبل وفاته
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
حدیث نمبر: 12023
عَنْ سَهْلٍ أَبِي الْأَسَدِ قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ وَنَحْنُ فِيهِ، فَقَالَ: ”الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ مَا إِنِ اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا، وَإِنْ عَاهَدُوا وَفَوْا، وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.“
بکیر بن وہب جزری کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں،یہ حدیث میں نے کسی اور کو بیان نہیں کی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم بھی اس گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حکمران قریش میں سے ہوں گے، تمہارے ذمے ان کے حقوق ہیں اور اسی طرح ان کے ذمے تمہارے حقوق ہیں،اگر ان سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو وہ رحم کریں، جب وہ کسی سے کوئی وعدہ کریں، تو اسے پورا کریں گے اور جب وہ فیصلے کریں تو عدل و انصاف سے کریں، اگر ان میں سے کسی نے یہ ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12023]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه النسائي في الكبري: 5942، الطبراني في الدعائ: 2122، وابن ابي شيبة: 12/ 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12332»
الحكم على الحديث: حديث صحيح بطرقه وشواھده
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12023 in Urdu