🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. الباب الأول فى ذكر الأحاديث المشيرة إلى خلافته رضى الله عنه
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12159
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدٍ قَالَ لَمَّا اسْتُعِزَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ دَعَا بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ ”مُرُوا مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ“ قَالَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ فِي النَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ غَائِبًا فَقَالَ قُمْ يَا عُمَرُ فَصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ فَقَامَ فَلَمَّا كَبَّرَ عُمَرُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا مُجْهِرًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَأَيْنَ أَبُو بَكْرٍ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ“ قَالَ فَبَعَثَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَجَاءَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى عُمَرُ تِلْكَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ قَالَ لِي عُمَرُ وَيْحَكَ مَاذَا صَنَعْتَ بِي يَا ابْنَ زَمْعَةَ وَاللَّهِ مَا ظَنَنْتُ حِينَ أَمَرْتَنِي إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حِينَ لَمْ أَرَ أَبَا بَكْرٍ رَأَيْتُكَ أَحَقَّ مَنْ حَضَرَ بِالصَّلَاةِ
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیماری کا غلبہ تھا تو میں چند مسلمانوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز پڑھانے کی درخواست کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کسی سے کہہ دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ سیدنا ابن زمعہ کہتے ہیں: میں گیا اور دیکھا کہ وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے جا کر کہا: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، سو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے، چونکہ وہ بلند آواز والے آدمی تھے، اس لیے انہوں نے جب تکبیر کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آواز سن لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر کہاں ہیں؟ اللہ اور مسلمان اس کو نہیں مانیں گے، اللہ اور مسلمان تو اس کا انکار کریں گے۔ بہرحال وہ نماز تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا دی۔ اس کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا گیا، بعد میں انہوں نے لوگوں کو نماز یں پڑھائیں۔ سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ابن زمعہ! تجھ پر بڑا افسوس ہے، تو نے میرے ساتھ کیا کیا؟ جب تم نے مجھے آکر نماز پڑھانے کا کہا تو میں یہی سمجھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں اسی چیز کا حکم دیا ہے، اگر میرے خیال میں یہ بات نہ ہوتی تو میں لوگوں کو نماز نہ پڑھاتا۔ سیدنا ابن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا (کہ میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کہوں اور آپ کو نہ کہوں)۔ لیکن جب مجھے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نظر نہ آئے تو میں نے موجودہ لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ مستحق سمجھاکہ آپ نماز پڑھائیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12159]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، اخرجه ابوداود: 4660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19113»

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 12159 in Urdu