علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. الباب الأول فى ذكر الأحاديث المشيرة إلى خلافته رضى الله عنه
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12161
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَتْ لَمَّا كَانَ وَجَعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ قَالَ ”ادْعُوا لِي أَبَا بَكْرٍ وَابْنَهُ فَلْيَكْتُبْ لِكَيْلَا يَطْمَعَ فِي أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ طَامِعٌ وَلَا يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ“ ثُمَّ قَالَ ”يَأْبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَالْمُسْلِمُونَ“ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً وَالْمُؤْمِنُونَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَبَى اللَّهُ وَالْمُسْلِمُونَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَبِي فَكَانَ أَبِي
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مرض الموت میں مبتلا تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ابو بکر اور ان کے بیٹے کو میرے پاس بلا کر لاؤ، تاکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے معاملے میں کوئی لالچی لالچ نہ کرے اور اس امر کی خواہش رکھنے والا اس چیز کی خواہش نہ کرے۔ آپ نے یہ کلمہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں نے اس چیز کا انکار کر دیا ہے (ما سوائے ابو بکر کے)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ نے اور مسلمانوں نے اس چیز کے لیے لوگوں کا انکار کر دیا ہے، ما سوائے میرے باپ کے اور پھر میرے باپ ہی خلیفہ بنے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12161]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مؤمل، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25258»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ صحیح روایت درج ذیل ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْیَوْمِ الَّذِی بُدِئَ فِیہِ فَقُلْتُ: وَا رَأْسَاہْ، فَقَالَ: ((وَدِدْتُ أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ وَأَنَا حَیٌّ، فَہَیَّأْتُکِ وَدَفَنْتُکِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ غَیْرٰی کَأَنِّی بِکَ فِی ذٰلِکَ الْیَوْمِ عَرُوسًا بِبَعْضِ نِسَائِکَ، قَالَ: ((وَأَنَا وَا رَأْسَاہْ ادْعُوا إِلَیَّ أَبَاکِ وَأَخَاکِ حَتّٰی أَکْتُبَ لِأَبِی بَکْرٍ کِتَابًا فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یَقُولَ قَائِلٌ وَیَتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ أَنَا أَوْلٰی، وَیَأْبَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَکْرٍ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس اس دن تشریف لائے، جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف شروع ہوئی تھی، میں نے کہا: ہائے میرا سر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش تو اسی درد میں مبتلارہ کر فوت ہو جاتی، پھر میں تجھے تیار کرتا، (تیرے لیے دعائے مغفرت کرتا) اور تجھ کو دفن کرتا۔ میں نے غیرت میں آ کر کہا: گویا کہ میں محسوس کر رہی ہوں کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ساتھ خلوت اختیار کیے ہوئے ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میں خود سر کی تکلیف کی وجہ سے کہتا ہوں: ہائے میرا سر! اپنے باپ اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ، تاکہ میں ابو بکر کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہنے والا کہے گا اور اس خلافت کی تمنا رکھنے والا یہ تمنا کرے گا کہ میں اس کا زیادہ مستحق ہوں، جبکہ اللہ تعالیٰ اور مؤمن انکار کرتے ہیں، ما سوائے ابو بکر کے۔ (صحیح بخاری: ۵۶۶۶، ۷۲۱۷، صحیح مسلم: ۲۳۸۷، واللفظ لاحمد)
یہ روایات اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیںاور عملا ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، ارباب ِ حل و عقد اور پھر تمام مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بین ثبوت ہے۔
اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ بھی ہوتی تو ان کی خلافت کے بر حق ہونے کے لیے صحابہ کرام کا اجماع و اتفاق ہی کافی تھا۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۹۴)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْیَوْمِ الَّذِی بُدِئَ فِیہِ فَقُلْتُ: وَا رَأْسَاہْ، فَقَالَ: ((وَدِدْتُ أَنَّ ذٰلِکَ کَانَ وَأَنَا حَیٌّ، فَہَیَّأْتُکِ وَدَفَنْتُکِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ غَیْرٰی کَأَنِّی بِکَ فِی ذٰلِکَ الْیَوْمِ عَرُوسًا بِبَعْضِ نِسَائِکَ، قَالَ: ((وَأَنَا وَا رَأْسَاہْ ادْعُوا إِلَیَّ أَبَاکِ وَأَخَاکِ حَتّٰی أَکْتُبَ لِأَبِی بَکْرٍ کِتَابًا فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یَقُولَ قَائِلٌ وَیَتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ أَنَا أَوْلٰی، وَیَأْبَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَکْرٍ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس اس دن تشریف لائے، جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف شروع ہوئی تھی، میں نے کہا: ہائے میرا سر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش تو اسی درد میں مبتلارہ کر فوت ہو جاتی، پھر میں تجھے تیار کرتا، (تیرے لیے دعائے مغفرت کرتا) اور تجھ کو دفن کرتا۔ میں نے غیرت میں آ کر کہا: گویا کہ میں محسوس کر رہی ہوں کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ساتھ خلوت اختیار کیے ہوئے ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میں خود سر کی تکلیف کی وجہ سے کہتا ہوں: ہائے میرا سر! اپنے باپ اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ، تاکہ میں ابو بکر کے حق میں ایک تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہنے والا کہے گا اور اس خلافت کی تمنا رکھنے والا یہ تمنا کرے گا کہ میں اس کا زیادہ مستحق ہوں، جبکہ اللہ تعالیٰ اور مؤمن انکار کرتے ہیں، ما سوائے ابو بکر کے۔ (صحیح بخاری: ۵۶۶۶، ۷۲۱۷، صحیح مسلم: ۲۳۸۷، واللفظ لاحمد)
یہ روایات اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیںاور عملا ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، ارباب ِ حل و عقد اور پھر تمام مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بین ثبوت ہے۔
اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ بھی ہوتی تو ان کی خلافت کے بر حق ہونے کے لیے صحابہ کرام کا اجماع و اتفاق ہی کافی تھا۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۹۴)
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12161 in Urdu