🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. الْفَضْلُ الثَّانِي فِيمَا رَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْجَنَّةِ وَذِكْرِ غَيْرَتِهِ
فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت میں سیدناعمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12193
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ ”يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ مُرْتَفِعٍ مُشْرِفٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ قُلْتُ أَنَا عَرَبِيٌّ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ قُلْتُ فَأَنَا مُحَمَّدٌ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ“ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْلَا غَيْرَتُكَ يَا عُمَرُ لَدَخَلْتُ الْقَصْرَ“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنْتُ لِأَغَارَ عَلَيْكَ قَالَ وَقَالَ لِبِلَالٍ ”بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ“ قَالَ مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بِهَذَا“
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کے وقت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلاایا اور ان سے فرمایا: اے بلال! تم کس عمل کی بنا پر جنت میں مجھ سے سبقت لے جا رہے تھے؟ میں جب بھی جنت میں گیا، وہاں میں نے تمہارے پاؤں کی آہٹ اپنے سامنے سنی ہے۔ گزشتہ رات میں جنت میں گیا تو میں نے تمہاری وہی آواز سنی، پھر میں سونے سے بنے ہوئے ایک بلند وبالا محل کے پاس پہنچا۔ میں نے دریافت کیاکہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک عربی شخص کا ہے، میں نے کہا: عربی تو میں بھی ہوں، یہ محل ہے کس کا؟ انہو ں نے بتلایا کہ یہ امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک آدمی کا ہے، میں نے کہا: میں ہی محمد ہوں، مجھے بتلاؤ کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہو ں نے کہا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اگر تمہاری غیرت کالحاظ نہ ہوتا تو میں محل کے اندر چلا جاتا۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ پر غیرت نہیں کر سکتا۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم کس عمل کی بنا پر جنت میں مجھ سے سبقت لیے جا رہے تھے؟ انہوں نے کہا: میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کرتا ہوں اور دو رکعت (تحیۃ الوضو پڑھتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی عمل کی وجہ سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12193]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 3689، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23384»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12193 in Urdu