الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. الفضل الثالث فى غزارة علمه وقوة دينه وصلاحه وزهده
فصل سوم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
حدیث نمبر: 12202
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَفِيهَا مَا يَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ“ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الدِّينُ“
سہل بن حنیف کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ مجھ پر پیش کیے جانے لگے، جبکہ انھوں نے قمیضیں پہنی ہوئی تھیں، کسی کی قمیض چھاتی تک پہنچ رہی تھی اور کسی کی اس سے نیچے تک، اتنے میں عمر کو مجھ پر پیش کیا گیا، (ان کی قمیض تو اس قدر لمبی تھی) کہ وہ اسی کو گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12202]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2285، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23559»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12202 in Urdu