الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. الفضل الثالث فى غزارة علمه وقوة دينه وصلاحه وزهده
فصل سوم: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
حدیث نمبر: 12203
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ ”مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ جَنَازَةً“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”مَنْ عَادَ مِنْكُمْ مَرِيضًا“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”مَنْ تَصَدَّقَ“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا“ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ ”وَجَبَتْ وَجَبَتْ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: تم میں سے کس نے آج کسی جنازہ میں شرکت کی ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے آج کسی بیمارکی تیمارداری کی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت واجب ہوگئی ہے، واقعی واجب ہوگئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12203]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان، اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 235، والبزار: 1043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12205»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی صحیح صورت درج ذیل ہے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ صَائِمًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ تَبِعَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ جَنَازَۃً۔)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مِسْکِینًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ عَادَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مَرِیضًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا اجْتَمَعْنَ فِی امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آج کس نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کون میت کے پیچھے چلا (اور اس کی
نمازِ جنازہ ادا کی)؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کس نے مسکین کو کھانا کھلایا؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کس نے مریض کی عیادت کی؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ امور جس آدمی میں جمع ہوں گے، وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۰۷)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ صَائِمًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ تَبِعَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ جَنَازَۃً۔)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مِسْکِینًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، قَالَ: ((فَمَنْ عَادَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مَرِیضًا؟)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا اجْتَمَعْنَ فِی امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آج کس نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کون میت کے پیچھے چلا (اور اس کی
نمازِ جنازہ ادا کی)؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کس نے مسکین کو کھانا کھلایا؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج کس نے مریض کی عیادت کی؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ امور جس آدمی میں جمع ہوں گے، وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۰۷)
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12203 in Urdu