علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. فصل عنه فى إشارة النبى صلى الله عليه وسلم إلى خلافة عثمان رضى الله عنه
فصل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
حدیث نمبر: 12238
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا“ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ ”لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا“ فَقُلْتُ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ فَسَكَتَ قَالَتْ ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَارَّهُ فَذَهَبَ قَالَتْ فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ ”يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى أَنْ تَخْلَعَهُ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ وَلَا كَرَامَةَ“ يَقُولُهَا لَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کاش ہمارے پاس کوئی ایسا آدمی ہوتا جو ہمارے ساتھ باتیں کرتا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: کاش ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا جو ہمارے ساتھ باتیں کرتا۔ میں نے کہا: کیا میں عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج دوں؟ لیکن آپ اس بار بھی خاموش رہے، کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خادم کو بلوایا اور راز دارنہ انداز میں اس کے ساتھ کوئی بات کی، وہ چلا گیا،تھوڑا وقت ہی گزرا تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور وہ اندر تشریف لے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافی دیر تک ان کے ساتھ سرگوشی کرتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عثمان! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اس قمیص کو اتارنے کا مطالبہ کریں تو ان کے کہنے پر تم اسے نہ اتارنا، کیونکہ اس کے اتارنے میں کوئی عزت نہیں رہے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12238]
تخریج الحدیث: «قوله: يا عثمان ان الله تعاليٰ مقمصك قميضا الي آخره صحيح، وھذا سند فيه ضعف لضعف فرج بن فضالة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24970»
وضاحت: فوائد: … قمیض سے مراد خلافت ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12238 in Urdu