علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. الفضل الثاني فى انقياد عثمان و لكتاب الله عز وجل واعتداره وبيانه للناس وتعداد مناقبه
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
حدیث نمبر: 12272
عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ ادْعُوا لِي صَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَبَّاكُمْ عَلَيَّ فَدُعِيَا لَهُ فَقَالَ نَشَدْتُكُمَا اللَّهَ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ فَقَالَ ”مَنْ يَشْتَرِي هَذِهِ الْبُقْعَةَ مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونَ فِيهَا كَالْمُسْلِمِينَ وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ“ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي فَجَعَلْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِئْرٌ يُسْتَعْذَبُ مِنْهُ إِلَّا رُومَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ يَشْتَرِيهَا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونَ دَلْوُهُ فِيهَا كَدَلْوِ الْمُسْلِمِينَ وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ“ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنِّي صَاحِبُ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالَا اللَّهُمَّ نَعَمْ
ثمامہ بن حزن قشیری سے مروی ہے کہ جس روز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، میں اس روز ان کے مکان پر حاضر تھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی طرف جھانک کر کہا: لوگو تم اپنے ان دو سرکردہ آدمیوں کو بلاؤ، جنہوں نے تمہیں میرے خلاف اکسایاہے۔ پس جب انہیں بلایا گیا تو انھوں نے کہا: میں آپ لوگوں کو اللہ کاواسطہ دے کر پوچھتا ہوں آیا تم جانتے ہو کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور نمازیوں کے لیے مسجد تنگ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسا آدمی ہے جو اپنے خالص مال سے اس قطعہ زمین کو خرید کر مسجد میں شامل کردے اور اس کا اس قطعۂ زمین پر کوئی استحقاق نہ ہو، بلکہ وہ عام مسلمانوں کی طرح ہی اس پر حق رکھتا ہو اور اسے اس کے عوض جنت میں اس سے بہتر جگہ ملے گی۔ تو میں نے اپنے خالص ذاتی مال سے وہ قطعہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا، لیکن اب حال یہ ہے کہ تم لوگ مجھے اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے سے بھی روکتے ہو۔ پھر کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو رومہ کے کنوئیں کے علاوہ کوئی کنواں شیریں پانی کا نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اپنے ذاتی مال سے یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے اور اس میں اس کا حصہ بھی عام مسلمانوں کی طرح ہی ہو، اس کے عوض اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر کنواں ہو گا۔ تو میں نے یہ کنوں اپنے ذاتی مال سے خریدا تھا، لیکن اب حال یہ ہے کہ تم مجھے اس سے پانی تک پینے نہیں دیتے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں جیش العسرۃ یعنی غزوہ تبوک کے لشکر کو تیار کرنے والا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اللہ گواہ ہے کہ یہ سب باتیں درست ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12272]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الترمذي: 3703، والنسائي: 6/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 555»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گوناگوں مناقب ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12272 in Urdu