علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. الفضل الثاني فى انقياد عثمان و لكتاب الله عز وجل واعتداره وبيانه للناس وتعداد مناقبه
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
حدیث نمبر: 12274
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ فَدَخَلَ مَدْخَلًا كَانَ إِذَا دَخَلَهُ يَسْمَعُ كَلَامَهُ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ قَالَ فَدَخَلَ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ وَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنَّهُمْ يَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا قَالَ قُلْنَا يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ وَبِمَ يَقْتُلُونَنِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا“ فَوَاللَّهِ مَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ قَطُّ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي
ابو امامہ بن سہل سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے، وہ اپنے گھر کے ایک ایسے مقام میں آئے، جہاں سے آواز باہر سنی جاسکتی تھی، وہ اس جگہ پر گئے اور ہماری طرف جھانکا اور کہا: اب یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں، ہم نے کہا: اے امیر المومنین! ان کے مقابلے میں آپ کے لیے اللہ کافی ہے، انہوں نے پھر کہا: یہ لوگ مجھے کیونکر قتل کریں گے، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا خون اِن تین صورتوں کے علاوہ کسی بھی صورت میں حلال نہیں: کوئی آدمی اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے، یا شادی شدہ ہو کر زنا کرے، یا کسی کو قتل کر دے تو اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیا جائے۔ اللہ کی قسم! اللہ نے جب سے مجھے ہدایت دی ہے، میں نے اپنے دین کے مقابلے میں کسی دین کو پسند نہیں کیا، اور میں نے قبل ازاسلام یا بعد ازاسلام کبھی بھی زنانہیں کیا اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، پھر یہ لوگ میرے قتل کے درپے کیوں ہیں؟ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12274]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود: 4502، وابن ماجه: 2533، والترمذي: 2158، والنسائي: 7/ 91، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 437»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12274 in Urdu