🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. الفضل الرابع فى قوله صلى الله عليه وسلم للإمام على رضى الله عنه : أنت مني بمنزلة هرون من موسى الخ
فصل چہارم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امام علی رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12315
عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهَا رَفِيقِي أَبُو سَهْلٍ كَمْ لَكِ قَالَتْ سِتَّةٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً قَالَ مَا سَمِعْتِ مِنْ أَبِيكِ شَيْئًا قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ ”أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ“
موسیٰ جہنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فاطمہ بنت علی کی خدمت میں گیا،میرے رفیق ابو سہل نے ان سے کہا: آپ کی عمر کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: چھیاسی برس، ابو سہل نے کہا: آپ نے اپنے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کے بارے میں کیا کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہارا مجھ سے وہی مقام ہے، جو ہارون علیہ السلام کا موسی علیہ السلام سے تھا، الایہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12315]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه النسائي في الكبري: 8143، والطبراني: 24/384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27621»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مطلق طور پر افضل ہونا لازم نہیں آتا، بلکہ ان احادیث میں خلیفۂ چہارم کی ایک فضیلت بیان کی گئی ہے اور ان احادیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفۂ بلا فصل ہوں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق اس موقع سے ہے، جب غزوۂ تبوک کے موقع پر ان کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، آپ خود غور کریں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ہارون علیہ السلام سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جبکہ اہل تاریخ کے نزدیک ہارون علیہ السلام، موسی علیہ السلام کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے اور موسی علیہ السلام نے ان کو اس وقت اپنا نائب بنایا تھا، جب وہ اپنے ربّ سے سرّ و مناجات کرنے کے لیے گئے تھے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جیسے ہارون علیہ السلام کا استخلاف عارضی طور پر تھا، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس نیابت کا تعلق ان پچاس دنوں سے تھا، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 12315 in Urdu