الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ تَأْخِيرِ الصَّلُوةِ لِعُذْرِ الاشْتِغَالِ بِحَرْبِ الْكُفَّارِ وَنَسْخِ ذَلِكَ بِصَلُوةِ الْخَوْفِ وَالتَّرْتِيبِ فِي قَضَاءِ الْفَوَائِتِ وَالْآذَانِ وَالْإِقَامَةِ لِلْأُولَى وَالْإِقَامَةِ فَقَطْ لِكُلِّ فَائِتَةٍ بَعْدَهَا
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1236
عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَوْفٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا جُمُعَةَ حَبِيبَ بْنَ سِبَاعٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَحْزَابِ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ( (هَلْ عَلِمَ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ؟) ) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا صَلَّيْتَهَا، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَعَادَ الْمَغْرِبَ
سیدنا ابو جمعہ حبیب بن سباعؓ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تھا، بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب والے سال نماز مغرب پڑھائی، پس جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم میں سے کوئی جانتا ہے کہ میں نے عصر ادا کی تھی؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، پس اس نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی اور پھر نمازِ مغرب کو دوبارہ ادا کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1236]
تخریج الحدیث: «حديث منكر، تفرد به ابن لھيعة، وھو سييء الحفظ، ورواه عن مجھولَين۔ أخرجه البيھقي: 2/ 220، والطبراني في الكبير: 3542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17100»
الحكم على الحديث:
حديث منكر
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1236 in Urdu