🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. بَابُ تَأْخِيرِ الصَّلُوةِ لِعُذْرِ الاشْتِغَالِ بِحَرْبِ الْكُفَّارِ وَنَسْخِ ذَلِكَ بِصَلُوةِ الْخَوْفِ وَالتَّرْتِيبِ فِي قَضَاءِ الْفَوَائِتِ وَالْآذَانِ وَالْإِقَامَةِ لِلْأُولَى وَالْإِقَامَةِ فَقَطْ لِكُلِّ فَائِتَةٍ بَعْدَهَا
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1234
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ (أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ هَوِيًّا وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ (وَفِي رِوَايَةٍ) وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ صَلَاةُ الْخَوْفِ {فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا} فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ وَذَلِكَ قَوْلُهُ: {وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا} أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلَّى فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلَّى فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلَّى فِي وَقْتِهَا
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں غزوۂ خندق والے دن نماز سے روک دیا گیا، یہاں تک کہ مغرب سے بھی کچھ بعد کا وقت ہو گیا، لیکن یہ چیز لڑائی کے بارے میں مخصوص حکم کے نازل ہونے سے پہلے کی ہے، ایک روایت میں ہے: یہ نمازِ خوف کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، یہ حکم {فَرِجَالًا أَوْ رُکْبَانًا} میں بیان کیا گیا ہے، پس جب ہمیں قتال سے کفایت کیا گیا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہو گیا، اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا اور غالب ہے۔ بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ خندق والے اُس دن سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، انھوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ نماز ایسے ہی پڑھائی، جیسے اپنے وقت پر پڑھاتے تھے، پھر عصر کی اقامت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت میں پڑھاتے تھے، پھر مغرب کی اقامت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت پر پڑھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1234]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 2/ 17، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12216»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 2/ 17
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1235
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ (عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ مشرکوں نے غزوہ ٔ خندق والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چار نمازوں سے مشغول کر دیا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ بھی، جتنا اللہ کو منظور تھا، گزر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی اور پھر اقامت کہی، پس آپ نے نمازِ ظہر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مغرب پڑھائی اور پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشا پڑھائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1235]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 179، والنسائي: 2/ 17، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3555»

الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 179
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1236
عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَوْفٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا جُمُعَةَ حَبِيبَ بْنَ سِبَاعٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَحْزَابِ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ( (هَلْ عَلِمَ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ؟) ) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا صَلَّيْتَهَا، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَعَادَ الْمَغْرِبَ
سیدنا ابو جمعہ حبیب بن سباعؓ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تھا، بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب والے سال نماز مغرب پڑھائی، پس جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم میں سے کوئی جانتا ہے کہ میں نے عصر ادا کی تھی؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، پس اس نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی اور پھر نمازِ مغرب کو دوبارہ ادا کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1236]
تخریج الحدیث: «حديث منكر، تفرد به ابن لھيعة، وھو سييء الحفظ، ورواه عن مجھولَين۔ أخرجه البيھقي: 2/ 220، والطبراني في الكبير: 3542، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17100»

الحكم على الحديث: حديث منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں