علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. الفصل الثالث فى زحف الإمام على رضى الله عنه جيشه إلى قتال الخوارج بالنهروان بعد أن تبين له إفسادهم
فصل سوم: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
حدیث نمبر: 12378
حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَيِّدِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ قُتِلَ أَهْلُ النَّهْرَوَانِ فَكَأَنَّ النَّاسَ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ قَتْلِهِمْ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا بِأَقْوَامٍ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ أَبَدًا حَتَّى يَرْجِعَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ وَإِنَّ آيَةَ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُخْدَجَ الْيَدِ إِحْدَى يَدَيْهِ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ لَهَا حَلَمَةٌ كَحَلَمَةِ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ حَوْلَهُ سَبْعُ هُلْبَاتٍ فَالْتَمِسُوهُ فَإِنِّي أَرَاهُ فِيهِمْ فَالْتَمَسُوهُ فَوَجَدُوهُ إِلَى شَفِيرِ النَّهْرِ تَحْتَ الْقَتْلَى فَأَخْرَجُوهُ فَكَبَّرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَإِنَّهُ لَمُتَقَلِّدٌ قَوْسًا لَهُ عَرَبِيَّةً فَأَخَذَهَا بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي مُخْدَجَتِهِ وَيَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَكَبَّرَ النَّاسُ حِينَ رَأَوْهُ وَاسْتَبْشَرُوا وَذَهَبَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَجِدُونَ
انصار کے غلام ابو کثیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے سردار سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، جب انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تو یو ں محسوس ہواکہ ان کو قتل کرنے کے بعد لوگوں کو ندامت اور افسوس محسوس ہوا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ صورت بھانپ کر کہا: لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسے لوگوں کی بابت بتلایا تھا جو دین میں سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے گزر جاتا ہے، وہ کبھی دین کی طرف واپس نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ تیر کمان میں واپس آ جائے، ان کی ایک علامت یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کا وہ ہاتھ عورت کے پستان کی مانند ہوگا اور اس پریوں سرا بنا ہوگا جیسے پستان کے اوپر ہوتا ہے، اس کے ارد گرد سات بال ہوں گے، تم اسے تلاش کرو، میرا خیال ہے کہ وہ انہی میں ہوگا،لوگوں نے اسے تلاش کیا اوراسے نہر کے کنارے پر مقتولوں کے ڈھیر کے نیچے پایا، لوگوں نے اسے نکالا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی بات سچ ہے، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی عربی کمان لٹکائے ہوئے تھے، وہ اسے اس مقتول کے ناقص ہاتھ والے گوشت کے ٹکڑے پر لگاتے اور کہتے جاتے تھے: اللہ اور اس کے رسول کا فرمان سچ ہے، لوگوں نے بھی جب اسے دیکھا تو اللہ اکبر کہنے لگے اور خوشی کا اظہار کیا اور ان کے افسوس کی کیفیت جاتی رہی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12378]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه ابويعلي: 478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 672»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12378 in Urdu