🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. الفضل الأول فى محبة النبى ﷺ إياه وحبه من احبه
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ¤کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں¤فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12397
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ فَجَاءَ إِلَى فِنَاءِ فَاطِمَةَ فَنَادَى الْحَسَنَ فَقَالَ ”أَيْ لُكَعُ أَيْ لُكَعُ أَيْ لُكَعُ“ قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ قَالَ فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ قَالَ فَجَاءَ إِلَى فِنَاءِ عَائِشَةَ فَقَعَدَ قَالَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ حَبَسَتْهُ لِتَجْعَلَ فِي عُنُقِهِ السِّخَابَ فَلَمَّا جَاءَ الْتَزَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْتَزَمَ هُوَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے ایک بازار میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف گئے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بلاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: او بچے! او چھوٹو! او بچے! کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کا جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آگئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوٹ آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاکر بیٹھ گئے، اتنے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی آگئے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کو ان کی والدہ نے ان کے گلے میں ہار کی مانند کوئی چیز ڈالنے کے لیے روک لیا تھا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو گلے لگالیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلے سے لگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، پس تو اس سے بھی محبت کر اور اس سے محبت کرنے والے سے بھی محبت کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12397]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري:5884، وأخرجه مسلم مختصرا: 2421، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8362»

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 12397 in Urdu