علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. الفضل الرابع فى نعيي الحسين رضى الله عنه ووقوع خير نعيه على الناس، وكلامهم فى أهل العراق، وتاريخ مقتله
فصل چہارم: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 12426
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عُمَرَ ثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ وَعِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا سُلَيْمَانَ أَيَّ سَنَةٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسِتِّينَ وَمِائَةٍ سَنَةَ وَقْعَةِ الْحُسَيْنِ
نافع بن عمر جمحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے عطاء بن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا، انھوں نے نحر والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو قبل از فجر رمی یعنی جمرے کو کنکریاں ماریں،میرے والد نے ان سے کہا: اے ابو سلیمان! آپ نے نافع بن عمر سے یہ حدیث کس سال سنی؟ انھوں نے کہا: حسین کی شہادت والے سال ۱۶۹ ہجری میں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12426]
تخریج الحدیث: «، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20547»
وضاحت: فوائد: … لیکن یہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں، بلکہ حسین بن علی بن حسن بن سیدنا حسن بن سیدنا علی بن ابو طالب ہیں، یہ نیکی و تقوی، جو دو سخاوت اور ہمت و شجاعت والے آدمی تھے، یہ آٹھ ذوالحجہ ۱۶۹ہجری کو مکہ مکرمہ کے قریب فج وادی میں شہید کر دیئے گئے تھے۔
معلوم ہوا کہ اس روایت کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔
معلوم ہوا کہ اس روایت کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12426 in Urdu