الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. الْبَابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي حُرْمَتِهَا وَحَرَمِهَا
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12617
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ غُلَامًا يَخْبِطُ شَجَرًا أَوْ يَقْطَعُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْغُلَامِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہو کر وادیٔ عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف جارہے تھے، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا جو درختوں کے پتے جھاڑ رہا تھایاکاٹ رہا تھا، انہوں نے اس کا سازو سامان چھین لیا، جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ واپس آئے تو اس لڑکے کی برادری کے لوگوں نے آکر درخواست کی کہ انہوں نے اس لڑکے کا جو سامان قبضے میں لیا ہے، وہ اسے واپس کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، ایسا نہیں ہوسکتا کہ جو چیز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دی ہو، میں وہ واپس کر دوں اور انہوں نے وہ سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12617]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1364، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1443»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1364
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12617 in Urdu