الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. الْبَابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي حُرْمَتِهَا وَحَرَمِهَا
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12618
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلِيَّةُ قَوْمٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَةٌ رُءُوسُهُمْ“ وَسُئِلَ عَنِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ”حَرَامٌ آمِنٌ حَرَامٌ آمِنٌ“
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی طرف ایک قوم ظاہر ہو گی، ان کے سر منڈے ہوں گے اور وہ فتنوں میں مبتلا ہو گی۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدینہ منورہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حرم ہے، امن کی جگہ ہے، یہ حرم ہے، امن کی جگہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12618]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16072»
وضاحت: فوائد: … مشرق کی طرف سے نکلنے والی قوم سے مراد خوارج ہیں، جن کا ذکر آگے آئے گا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1068
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12618 in Urdu