الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ الْأَمْرِ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِالْآذَانِ وَفَضْلِهِ وَاسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ بَيْنَ الْآذَانِ وَالْأَقَامَةِ وَهُرُوبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهَا
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1262
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ هَرَبَ الشَّيْطَانُ حَتَّى يَكُونَ بِالرَّوْحَاءِ) ) وَهِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ ثَلَاثُونَ مِيلًا
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے، یہاں تک کہ روحاء مقام تک پہنچ جاتا ہے، اور یہ مقام مدینہ سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 388، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14457»
وضاحت: فوائد: … اذان، اللہ تعالیٰ کی کبریائی و بڑائی، وحدانیت و یکتانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت و نبوت کی شہادتوں اور لوگوں کے لیے خیر وفلاح کی دعوتوں پر مشتمل ہے، جب یہ اثر انگیز الفاظ شیطان کے کانوں میں پڑتے ہیں تو وہ بے برداشتہ اور دل برداشتہ ہو کر بھاگ پڑتا ہے اور ایسے مقام تک پہنچ کر سکون کی سانس لیتا ہے، جہاں اسلام کے عظیم شعار کے عظیم کلمات سنائی نہ دیتے ہوں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 388
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1262 in Urdu