الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب الأمر برفع الصوت بالآذان وفضله واستجابة الدعاء بين الآذان والأقامة وهروب الشيطان عند سماعها
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1263
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا ردّ نہیں کی جاتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔أخرجه الترمذي: 212، 3594، وابوداود: 521، وابن خزيمة: 425، وابن حبان: 1696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12200، 12584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12612»
وضاحت: فوائد: … مسجد کے خادم، مؤذن اور دوسرے متعلقہ لوگوں سمیت اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اس وقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ انسان کی عجلت پسندی، بے صبری اور عدم برداشت نے اسے نقصان دیا ہے۔ یہ سب امور تعلق باللہ کے کمزور ہونے کا نتیجہ ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1263 in Urdu