الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ الْأَمْرِ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِالْآذَانِ وَفَضْلِهِ وَاسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ بَيْنَ الْآذَانِ وَالْأَقَامَةِ وَهُرُوبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهَا
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1264
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ) )
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14745»
وضاحت: فوائد: … نماز کے لیے بلانے سے مراد اذان ہے، اس حدیث کے درج ذیل شاہد سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ فُتِحَتْ اَبْوَابُ السَّمَائِ وَاسْتُجِیْبَ الدُّعَائُ۔)) یعنی: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے۔ (أخرجہ الطیالسی: ۲۱۰۶، وابو یعلی: ۴۰۷۲، والطبرانی فی الدعا: ۴۸۵، والبغوی: ۴۲۸ باسنادین ضعیفین)
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1264 in Urdu