الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12647
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَوُعِكَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى ثُمَّ أَتَاهُ فَأَبَى فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا خَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتُنَصِّعُ طَيِّبَهَا“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر اسلام پر بیعت کی، بعد میں اسے بخار ہوگیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: آپ میری بیعت واپس کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا، وہ پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر انکار کردیا، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بیعت واپس کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے پوچھا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ تو چلا گیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ ایک بھٹی کی مانند ہے، یہ برے لوگوں کو باہر نکال دیتا ہے اوراچھے لوگوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12647]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7208، 7211، ومسلم: 1383، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14335»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7208
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12647 in Urdu