🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12635
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ، أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا، وَقَالَ: الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَؤْمِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ القِيَامَةِ“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں مدینہ منورہ کی دو حرّوں کے درمیان والی زمین کو حرم قرار دیتاہوں، یہاں سے کوئی جھاڑی نہ کاٹی جائے اور کوئی شکار نہ کیا جائے۔ نیز فرمایا: مدینہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہو گا، کاش کہ یہ لوگ اس بات سے واقف ہوتے،ـ جو کوئی یہاں سے اعراض کرتے ہوئے چلا جاتا ہے، اللہ اس کے عوض اس سے بہتر آدمی کو اس میں لے آتاہے، جو آدمی یہاں کی پریشانیوں اور شدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی بنوں گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12635]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1363، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1573»
وضاحت: فوائد: … مدینہ منورہ میں وہی رہے گا، جس کے ایمان میں رسوخ ہو گا۔ مدینہ منورہ میں بسیرا کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی منقبت سمجھیں اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کریں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1363
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12636
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ: ”كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ حَرَمَهُ، لَا يُقْطَعُ عِضَاهَا، وَلَا يُقْتَلُ صَيْدُهَا، وَلَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَهَا اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَلَا يُرِيدُهُمْ أَحَدٌ بِسُوءٍ إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ ذَوْبَ الرَّصَاصِ فِي النَّارِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ“
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے حرم کو حرمت والا بنایاکہ یہاں سے کوئی جھاڑی نہ کاٹی جائے، یہاں شکار نہ کیا جائے اورجو کوئی یہاں سے اعراض کرتے ہوئے چلا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس سے بہتر آدمی کو لے آتاہے، جو آدمی اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے یوں پگھلا دے گا، جیسے آگ میں پیتل یا پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12636]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1606»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1606
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12637
عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ أَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ فَذَكَرَتْ شِدَّةَ الْحَالِ وَأَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهَا اجْلِسِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَصْبِرُ أَحَدُكُمْ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
مولائے زبیر یحنس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کی خادمہ ان کے پاس آئی اور اس نے حالات کی شدت کا شکوہ کیا، وہ چاہتی تھی کہ مدینہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلی جائے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: بیٹھ جا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے جو آدمی مدینہ منورہ میں پیش آنے والی تکالیف اور مصائب پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12637]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5935»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1377
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12638
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ مَاتَ بِهَا“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ اسے مدینہ میں موت آئے تو اس کی ضرور کوشش کرے، کیونکہ جو لوگ یہاں فوت ہوں گے، میں ان کے حق میں سفارش کروں گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12638]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، اخرجه ابن ماجه: 3112، والترمذي: 3917، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5437»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کامقصود یہ ہے کہ لوگ مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کریں، تبھی اُدھر موت آ ئے گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12639
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ ”يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ رِجَالٌ رَغْبَةً عَنْهَا وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ مدینہ سے اعراض کرتے ہوئے یہاں سے چلے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا، کاش کہ وہ یہ بات جان لیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12639]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه بنحوه ايو يعلي: 5868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8002»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12640
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تُفْتَحُ الْأَرْيَافُ فَيَأْتِي نَاسٌ إِلَى مَعَارِفِهِمْ فَيَذْهَبُونَ مَعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوشحالی اور آسودگی والی زمین فتح ہوگی تو کچھ لوگ اپنے دوستوں کے ہمراہ ادھر منتقل ہوجائیں گے، حالانکہ مدینہ کی سکونت ان کے لیے بہتر ہوگی، لیکن کاش وہ یہ بات جان لیں۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12640]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة اختلط وساء حفظه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8576»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12641
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”تُفْتَحُ الْبِلَادُ وَالْأَمْصَارُ فَيَقُولُ الرِّجَالُ لِإِخْوَانِهِمْ هَلُمُّوا إِلَى الرِّيفِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت سے دوسرے علاقے اور شہر فتح ہوں گے توکچھ لوگ اپنے بھائیوں سے کہیں گے: آؤ ادھر چلیں، وہاں خوش حالی ہے، حالانکہ مدینہ کی سکونت ان کے حق میں بہتر ہوگی، اگر وہ اس بات کو جانیں، جو بھی آدمی مدینہ منورہ میں مشکلات وشدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہ یا سفارشی بنو ں گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12641]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8439»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12642
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَفْصَةَ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فِي مَجْلِسِ اللَّيْثِيِّينَ يَذْكُرُونَ أَنَّ سُفْيَانَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ فَرَسَهُ أَعْيَتْ بِالْعَقِيقِ وَهُوَ فِي بَعْثٍ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ يَسْتَحْمِلُهُ فَزَعَمَ سُفْيَانُ كَمَا ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَعَهُ يَبْتَغِي لَهُ بَعِيرًا فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا عِنْدَ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ الْعَدَوِيِّ فَسَامَهُ لَهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْمٍ لَا أَبِيعُكَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ خُذْهُ فَاحْمِلْ عَلَيْهِ مَنْ شِئْتَ فَزَعَمَ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنْهُ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بِئْرَ الْإِهَابِ زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُوشِكُ الْبُنْيَانُ أَنْ يَأْتِيَ هَذَا الْمَكَانَ وَيُوشِكُ الشَّامُ أَنْ يُفْتَتَحَ فَيَأْتِيهُ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْبَلَدِ فَيُعْجِبَهُمْ رِيفُهُ وَرَخَاؤُهُ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ دَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ وَإِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي صَاعِنَا وَأَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي مُدِّنَا مِثْلَ مَا بَارَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ“
بسر بن سعید سے مروی ہے کہ وہ بنولیث کے لوگوں کی ایک محفل میں تھے، وہاں ذکر ہورہا تھا کہ سفیان نے ان کو بتلایا کہ وادی ٔ عقیق میں ان کا گھوڑا چلنے سے عاجز آگیا، وہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے ایک دستے میں تھے، وہ اپنی مجبوری کی بنا پر دوسری سواری لینے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس گئے، ان لوگوں نے ذکر کیا کہ سفیان نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ اس کے لیے اونٹ کی تلاش میں نکلے، آپ کو ابو جہم بن حذیفہ عدوی رضی اللہ عنہ کے ہاں اونٹ ملا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے خرید نے کے لیے بات کی تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو یہ اونٹ قیمتاً نہیں دیتا، بلکہ آپ یہ ویسے ہی لے جائیں اور جسے چاہیں عنایت فرما دیں، سیدنا سفیان کہتے ہیں: آپ نے ان سے وہ اونٹ لے لیا اور وہاں سے روانہ ہوئے، جب بئرا ھاب میں پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امیدہے کہ مدینہ کی آبادی یہاں تک پہنچ جائے گی اور امید ہے کہ شام کا ملک فتح ہوگا، مدینہ کے لوگ وہاں جائیں گے تو انہیں وہاں کی خوش حالی پسند آئے گی، حالانکہ اگر وہ جانتے ہوں تو ان کے لیے مدینہ کی سکونت ہی بہتر ہوگی، پھر عراق فتح ہوگا، یہ لوگ واپس آکر اپنے جانوروں کو ہانکتے ہوئے اور اپنے اہل و عیال اور ساتھیوں سمیت ادھر منتقل ہوجائیں گے، حالانکہ ان کے لیے مدینہ کی سکونت ہی بہتر ہوگی، اگر وہ اس بات کو جان لیں، ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے حق میں برکت کی دعا کی تھی اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس نے جس طرح اہل مکہ کے لیے برکت فرمائی اسی طرح وہ ہمارے صاع میں او ر مد میں برکت فرمائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12642]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الليثين الذين روي عنھم بسر بن سعيد، لكن قوله يوشك الشام ان يفتح الي آخر الحديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22259»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الليثين الذين روي عنھم بسر بن سعيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12643
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْمَدِينَةِ زَمَانٌ يَنْطَلِقُ النَّاسُ فِيهَا إِلَى الْآفَاقِ يَلْتَمِسُونَ الرَّخَاءَ فَيَجِدُونَ رَخَاءً ثُمَّ يَأْتُونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ لوگ خوش حالی کی تلاش میں مدینہ سے نقل مکانی کر کے ادھر اُدھر چلے جائیں گے، جب وہ وہاں خوش حالی پائیں گے تو آخر اپنے اہل و عیال کو بھی وہیں لے جائیں گے، حالانکہ اگر وہ جانتے ہوں تو مدینہ ان کے لیے بہر حال بہتر ہوگا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12643]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14736»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12644
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ قَالَ تُوُفِّيَ أَخِي وَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَخِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عِيَالًا وَلِي عِيَالٌ وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ بِعِيَالِي وَعِيَالِ أَخِي حَتَّى نَنْزِلَ بَعْضَ هَذِهِ الْأَمْصَارِ فَيَكُونَ أَرْفَقَ عَلَيْنَا فِي مَعِيشَتِنَا قَالَ وَيْحَكَ لَا تَخْرُجْ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
مولائے مہری ابو سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میرے بھائی کا انتقال ہوگیا، میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، میں نے کہا: ابو سعید! میرے بھائی کا انتقال ہوگیاہے، وہ اہل و عیال چھوڑ گیا ہے، میرے اپنے بھی بال بچے ہیں، ہمارے پاس کچھ زیادہ مال بھی نہیں ہے، میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اپنے اور بھائی کے اہل وعیال کو لے کر کسی دوسرے علاقہ میں چلا جاؤں تاکہ وہاں ہمارے معاشی حالات کچھ بہتر ہوجائیں، انہوں نے کہا: تجھ پر افسوس، مدینہ چھوڑ کر مت جانا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ منورہ میں آنے والے مصائب و شدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْفَضَائِلِ/حدیث: 12644]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11266»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1374
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں