الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ فِي صِفَةِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هو؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
حدیث نمبر: 12696
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كَانَ جِذْعُ نَخْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ يُسْنِدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ إِلَيْهِ، إِذَا كَانَ يَوْمُ جُمُعَةٍ، أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ يُرِيدُ أَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ، فَقَالُوا: أَلَا نَجْعَلُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! شَيْئًا كَقَدْرِ قِيَامِكَ؟ قَالَ: ”لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا.“ فَصَنَعُوا لَهُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ. قَالَ: فَجَلَسَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَخَارَ الْجِذْعُ كَمَا تَخُورُ الْبَقَرَةُ جَزَعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَزَمَهُ وَمَسَحَهُ حَتَّى سَكَنَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میں کھجور کا ایک تنا تھا، جمعہ کے دن یا کسی خاص موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہونا چاہتے تو اپنی پشت اس کے ساتھ لگا کر کھڑے ہوجاتے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھڑے ہونے کے لیے بلند چیز نہ بنادیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے،، اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو انہوں نے تین سیڑھیوں ولاا ایک منبر تیار کر دیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے اس پر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی پر غمگین ہو کر وہ تنا اس طرح بلند آواز سے جزع فزع کرنے لگا، جیسے گائے جزع فزع کرتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر اسے سینہ سے لگایا اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12696]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه بنحوه البخاري: 3583، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5886»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12696 in Urdu