🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. الْبَابُ الأَوَّلُ وَمَا جَاءَ فِي فَضَائِلِ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالْحِجَازِ
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12715
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ“
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری گفتگو یہ تھی کہ تم حجاز اہل نجران کے یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا اور یاد رکھو کہ سب سے برے لوگ وہ ہیں،جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12715]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الدارمي: 2498، والبزار: 439، والحميدي: 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1691»
وضاحت: فوائد: … جزیرۃ العرب: بحرہند، بحر شام، پھر دجلہ فرات نے جتنے علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کرآبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ جزیرۃ العرب کہلاتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَخْرِجُوا الْمُشْرِکِیْنَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ۔)) (بخاری، مسلم) … مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کی تعمیل کی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجاز کی سرزمین سے یہودو نصاری کو جلا وطن کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب خیبر فتح کر لیا تو یہودیوں کو وہاں سے نکال دینے کا ارادہ کیا۔ اس وقت خیبر کی زمین تو اللہ تعالی، رسول اللہ اور مسلمانوں کی ہو چکی تھی۔ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کو خیبر میں رہنے دیا جائے، وہ کام کریں گے اور نصف پیداوار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا اور فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے تم لوگوں کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیں گے۔ سو وہ وہیں رہے، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیما او ر اریحا کے مقام کی طرف جلا وطن کر دیا۔ (بخاری: ۲۳۳۸)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12715 in Urdu