یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. الباب الأول فى قرب مبعث النبى صلى الله عليه وسلم من الساعة
باب اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 12786
۔ وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ بَیْتِہٖ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ قَالَ: ( (اَمَا اِنَّہَا قَائِمَۃٌ فَمَا اَعْدَدْتَّ لَھَا؟) ) قَالَ: وَاللّٰہِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَعْدَدْتُّ لَھَا مِنْ کَثِیْرِ عَمَلٍ غَیْرَ اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ قَالَ: ( (فَاِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلَکَ مَا احْتَسَبْتَ۔) ) قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُصَلِّیْ فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ قَالَ: ( (اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃ؟) ) فَاُتِیَ بِالرَّجُلِ فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِلَی الْبَیْتِ فَاِذَا غُلَامٌ مِنْ دَوْسٍ مِنْ رَھْطِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَیُقَالُ لَہٗسَعْدُبْنُمَالِکٍفَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ( (ہٰذَا الْغُلَامُ اِنْ طَالَ بِہٖعُمُرُہُلَمْیَبْلُغْ بِہِ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔) ) قَالَ الْحَسَنُ: وَاَخْبَرَنِیْ اَنَسٌ اَنَّ الْغُلَامَ کَانَ یَوْ مَئِذٍ مِنْ اَقْرَانِیْ۔ (مسند احمد:14057)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا،ایک آدمی نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ تو قائم ہو کر رہے گی، تم نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم! میں نے قیامت کے لیے کوئی زیادہ اعمال تو نہیں کیے ہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن کے ساتھ تم کو محبت ہو گی ‘ آخرت میں انہی کے ساتھ ہوگے اور تم جو امید رکھو گے، وہی کچھ تمہیں ملے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور جب نما ز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: قیامت کے بارے میں پوچھنے والا آدمی کہاں ہے؟ پس اسے لایا گیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کی طرف دیکھا،تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے خاندان بنودوس کے ایک لڑکے پر نظر پڑی، اس کا نام سعد بن مالک رضی اللہ عنہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے پہلے قیامت آ جائے گی۔ حسن کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلایا کہ وہ نوجوان ان دنوں ان کا ہم عمر تھا۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12786]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 2758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14012 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا، ملاحظہ ہوں احادیث نمبر (۹۴۲۹، ۹۴۳۰)، حدیث کے باقی حصے کی وضاحت کے لیے اگلی حدیث کے فوائد دیکھیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12786 in Urdu