الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. فتَنْ مُسَمَّاةٍ يَتْلُو بَعْضُهَا بَعْضًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
حدیث نمبر: 12843
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْآيَاتُ خَرَزَاتٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ فَإِنْ يَقْطَعِ السِّلْكَ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علاماتِ قیامت کی مثال دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں کی طرح ہے کہ جب دھاگہ ٹوٹ جاتا ہے تو باری باری گرنے لگ جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12843]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مؤمل بن اسماعيل سييء الحفظ، وعلي بن زيد بن جدعان ضعيف، وقد توبعا، وتبقي علته خالد بن الحويرث، قال ابن معين: لا اعرفه، أخرجه الحاكم: 4/ 473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:7040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7040»
وضاحت: فوائد: … جب علامات ِ قیامت کا ظہور شروع ہو گا تو وہ یکے بعد دیگرے جلدی جلدی رونما ہونا شروع ہو جائیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن برائیوں کو قیامت کی علامات میں شمار کیا ہے، وہ بھی مختلف علاقوں میں ایک ایک کر کے جلد ہی منظرِ عام پر آ گئیں، جیسے سود، زنا، شراب، قطع رحمی اور جھوٹی گواہی کا عام ہونا، سچی شہادت کو چھپانا اور مخصوص لوگوں کو سلام کہنا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12843 in Urdu