🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. مَارُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں¤اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12892
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا، وَحَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَمَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا ضَلَالَ الطَّرِيقِ، وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ“، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”الْقَتْلُ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی, جب تک عربوں کی سر زمین سبزہ زاروں اور نہروں کی صورت اختیار نہیں کر لے گی اور جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ عراق سے مکہ تک سفر کرنے والے کو صرف راستہ بھول جانے کا ڈر ہو گا اور ھرج عام ہوجائے گا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل۔ [الفتح الربانی/بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها/حدیث: 12892]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرج القطعة الاولي الحاكم: 4/ 477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8819»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جزیرۂ عرب کے بعض علاقوں میں اس حدیث ِ مبارکہ میں کی گئی پیشینگوئی کے آثار و علامات دکھائی دینے لگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خیرات و برکات کے نزول کے کئی مناظر نظر آ رہے ہیں، مختلف آلات کے ذریعے صحرائی زمین سے آبپاشی کے لیے پانی نکالا جا رہا ہے۔ بعض مقامی اخبار میں یہ بات بھی شائع ہوئی تھی کہ فرات کا رخ جزیرۂ عرب کی طرف موڑنے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے، ممکن ہے کہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے۔
مولانا مودودی کہتے ہیں: تبوک کے محکمہ شرعیہ کے رئیس شیخ صالح نے بتایا کہ یہ چشمہ دو سال پہلے تک پونے چودہ سو سال سے مسلسل ابلتا رہا، بعد میں نشیبی علاقوں میں ٹیوب ویل کھودے گئے تو اس چشمے کا پانی ان ٹیوب ویلز کی طرف منتقل ہو گیا۔ تقریباً پچیس ٹیوب ویلز میں تقسیم ہو جانے کے بعد اب یہ چشمہ خشک ہو گیا ہے، اس کے بعد شیخ صالح ہمیں ایک ٹیوب ویل کی طرف بھی لے گئے، جہاں ہم نے دیکھا کہ چار انچ کا ایک پائپ لگا ہوا ہے اور کسی مشین کے بغیر اس سے پانی پورے زور سے نکل رہا ہے، قریب قریب یہی کیفیت دوسرے ٹیوب ویلز کی بھی ہمیں بتائی گئی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے ہی کی برکت ہے، آج تبوک میں اس کثرت سے پانی موجود ہے، کہ مدینہ اور خیبر کے سوا ہمیں کہیں اتنا پانی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تبوک کا پانی ان دونوں جگہوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس پانی سے فائدہ اٹھا کر اب تبوک میں ہر طرف باغ لگائے جا رہے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق تبوک کا علاقہ باغوں سے بھرا ہوا ہے اور دن بدن بھرتا جا رہا ہے۔ (سفرنامہ ارض قرآن)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم


Al-Fath al-Rabbani Hadith 12892 in Urdu