الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. اخبارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ وَذِكْرُ أَوْصَافِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَفَتَنَتِهِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْهُ وَغَيْرُ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 12979
عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا خُرَاسَانُ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ“
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی جہت میں واقع خراسان نامی جگہ سے دجال نمودار ہوگا اور ایسے لوگ اس کی پیروی کریں گے جن کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12979]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2237، وابن ماجه: 4072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:12 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12»
وضاحت: فوائد: … امام عبدا لرحمن مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ماوراء النہر اور عراق کے علاقوں کے درمیان خراسان کے معروف علاقے ہیں۔ اب ہرات کو خراسان کہتے ہیں، جس کا بیشتر حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی میں مذکورہ خراسان کاہے، بالکل ایسے ہی سمجھیں جیسے دمشق کو شام کہتے ہیں۔ (حالانکہ احادیث میں مذکورہ شام جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ ہے، جوموجودہ شام، انطاکیہ سمیت، اردن اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل ہے۔) رہا مسئلہ اس کی پیروی کرنے والے اس حدیث میںمذکورہ لوگوں کا، تو یہ پیدائشی اوصاف ترک اور ازبک لوگوںمیں پائے جاتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۳۴) جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی وجہ سے علاقوں کے قدیم اور جدید ناموں میں اختلاف پایا جا تا رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 12979 in Urdu