🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. اخبارُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْمَكَانِ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْهُ وَذِكْرُ أَوْصَافِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَفَتَنَتِهِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْهُ وَغَيْرُ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12978
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَيَكُونَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ وَكَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت سے قبل مسیح دجال کا ظہور ہو گا اور اس کے علاوہ تیس یا اس سے زیادہ کذاب بھی آئیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12978]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبو يعلي: 5706، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5694»
وضاحت: فوائد: … دجال سے پہلے آنے والے جھوٹوں سے مراد جھوٹے مدعیانِ نبوت ہیں، ملاحظہ ہو حدیث نمبر(۱۲۸۳۲)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12979
عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا خُرَاسَانُ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ“
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی جہت میں واقع خراسان نامی جگہ سے دجال نمودار ہوگا اور ایسے لوگ اس کی پیروی کریں گے جن کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12979]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2237، وابن ماجه: 4072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:12 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12»
وضاحت: فوائد: … امام عبدا لرحمن مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ماوراء النہر اور عراق کے علاقوں کے درمیان خراسان کے معروف علاقے ہیں۔ اب ہرات کو خراسان کہتے ہیں، جس کا بیشتر حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی میں مذکورہ خراسان کاہے، بالکل ایسے ہی سمجھیں جیسے دمشق کو شام کہتے ہیں۔ (حالانکہ احادیث میں مذکورہ شام جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ ہے، جوموجودہ شام، انطاکیہ سمیت، اردن اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل ہے۔) رہا مسئلہ اس کی پیروی کرنے والے اس حدیث میںمذکورہ لوگوں کا، تو یہ پیدائشی اوصاف ترک اور ازبک لوگوںمیں پائے جاتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۳۴) جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی وجہ سے علاقوں کے قدیم اور جدید ناموں میں اختلاف پایا جا تا رہا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12980
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَأْتِي الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ، حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تُصَرِّفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَاكَ يَهْلِكُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کا ہدف مدینہ منورہ ہوگا، لیکن جب وہ احد پہاڑ کے پیچھے پہنچے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی سر زمین کی طرف موڑ دیں گے اور وہ وہیں ہلاک ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12980]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1380، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9895 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9897»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12981
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَيَنْزِلَنَّ الدَّجَّالُ خُوزَ وَكِرْمَانَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا، وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال ستر ہزار افراد کے ساتھ خوز اور کرمان کے علاقوں میں جاکر ٹھہرے گا، اس کا ساتھ دینے والوں کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12981]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل عنعنة محمد بن اسحاق، أخرجه البزار: 3390، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8434»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12982
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِي هَذِهِ السَّبَخَةِ بِمَرِّ قَنَاةٍ، فَيَكُونُ أَكْثَرُ مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْجِعُ إِلَى حَمِيمِهِ وَإِلَى أُمِّهِ وَابْنَتِهِ وَأُخْتِهِ وَعَمَّتِهِ فَيُوثِقُهَا رِبَاطًا مَخَافَةَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ، ثُمَّ يُسَلِّطُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ، فَيَقْتُلُونَهُ وَيَقْتُلُونَ شِيعَتَهُ، حَتَّى إِنَّ الْيَهُودِيَّ يَخْتَبِئُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَوِ الْحَجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرَةُ لِلْمُسْلِمِ: هَذَا يَهُودِيٌّ تَحْتِي فَاقْتُلْهُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال مدینہ منورہ کے قریب وادیٔ قناۃ کے بہاؤ والی جگہ میں شور زدہ جگہ میں آکر ٹھہرے گا، اس کی طرف جانے والوں میں اتنی زیادہ تعداد عورتوں کی ہوگی کہ ایک آدمی اپنے رشتہ داروں، ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی وغیرہ کی طرف جا کر ان کو مضبوطی سے باندھ دے گا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان میں سے کوئی دجال کی طرف چلی جائے، پھراللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر غلبہ عطا کرے گا اور وہ اس کو اور اس کی حمایت کرنے والوں کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ جب کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے پیچھے جا کر چھپے گا تو وہ پتھر یادرخت بول کر مسلمان سے کہے گا: یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، تم اسے قتل کردو۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12982]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه محمد بن اسحاق وھو مدلس وقد عنعن، ولبعض الحديث شواھد، أخرجه الطبراني في الكبير: 13197، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5353»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12983
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ، عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال اصبہان کی یہودیوں کی بستی سے ظاہر ہوگا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، انھوں نے سبز رنگ کی شالیں کندھوں پر ڈال رکھی ہوں گی۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12983]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابويعلي: 3639، والطبراني في الاوسط: 4927، وأخرجه مختصرا مسلم: 2944، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13377»
وضاحت: فوائد: … یہودیوں کا ماضی بھی حق کی مخالفت سے بھر پڑا ہے اور مستقبل کا یہ حال ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12984
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنَأْ مِنْهُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَلَا يَزَالُ بِهِ لِمَا مَعَهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ حَتَّى يَتَّبِعَهُ“
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی دجال کی آمد کے بارے میں سنے تو وہ اس سے دور دور رہے، کیونکہ اپنے آپ کو مومن سمجھنے والا جب اس کے پاس آئے گا تو اس کے شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگ جائے گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12984]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20116»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12985
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ وَنَحْنُ مَعَهُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ، عَلَى كُلِّ نِقَبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ لَا يَدْخُلَهَا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ رَجَفَتِ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ وَأَكْثَرُ يَعْنِي مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ وَذَلِكَ يَوْمُ التَّخْلِيصِ، وَذَلِكَ يَوْمٌ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ، يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٌ وَسَيْفٌ مُحَلًّى فَتُضْرَبُ رَقَبَتُهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّيُولِ“ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ قَبْلِي“ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ ثُمَّ قَالَ: ”أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرّہ کی ایک ہموار جگہ کی طرف جھانکا، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ کی سر زمین بہت اچھی ہے، جب دجال کا ظہور ہوگا تو اس کے ہر راستے پر ایک فرشتہ ہوگا، اس وجہ سے وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا، جب وہ وقت آئے گا تو مدینہ منورہ اپنے اوپر موجودہ لوگوں کو تین مرتبہ جھٹکے دے گا، اس وجہ سے ہر منافق مرد او رعورت نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا، اس کی طرف جانے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی، وہ یَوْمُ التَّخْلِیْصِ ہوگا، اس دن مدینہ اپنے اندر موجود خبیث لوگوں کو اس طرح الگ کردے گا، جیسے آگ لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، ہر ایک پر ایک مخصوص تاج اور ہر ایک کے پاس خوبصورت تلوار ہوگی، اس کو سیلابوں کے جمع ہونے والی وادی میں قتل کر دیا جائے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ آج تک ایسا فتنہ برپا ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، جو دجال کے فتنے سے سنگین ہو، ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس دجال سے ڈرایا ہے، لیکن میں تمہیں اس کی ایسی علامت بتلاتا ہوں کہ جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتلائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ آنکھ پر رکھ کر فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12985]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14158»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12986
وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ ”يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ“ ثَلَاثًا فَقِيلَ لَهُ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ قَالَ ”يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَصْعَدُ أُحُدًا فَيَنْظُرُ الْمَدِينَةَ فَيَقُولُ لِأَصْحَابِهِ مَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ هَذَا مَسْجِدُ أَحْمَدَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكًا مُصَلِّتًا فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجُرْفِ فَيَضْرِبُ رُوَاقَهُ ثُمَّ تَرْجُفَ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَلَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ وَلَا فَاسِقٌ وَلَا فَاسِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ فَذَلِكَ يَوْمُ الْخَلَاصِ“
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: خلاصی کا دن، بھلا وہ خلاصی کا دن کیا ہے؟ خلاصی کا دن، بھلا وہ خلاصی کا دن کون سا ہے؟ خلاصی کا دن، وہ خلاصی کا دن کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔ پھر کسی نے پوچھا: خلاصی کے دن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال آ کر احد پر چڑھ جائے گا اور مدینہ منورہ کی طرف دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہے گا: تم اس سفید محل کو کیا سمجھتے ہو؟ یہ تو احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجدہے، پھر وہ مدینہ کی طرف پیش قدمی کرے گا، لیکن وہ مدینہ کے ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو دیکھ کر شور والی زمین کی طرف آ جائے گا اور اس کے سامنے والے حصے پر ضرب لگائے گا، پھر مدینہ منورہ (زلزلہ کی طرح) تین جھٹکے لے گا، اس طرح ہر منافق اور فاسق مردو زن، سب نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے، یہ خلاصی کا دن ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12986]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبد الله بن شقيق لم يسمع محجن بن الادرع، بينھما رجاء بن أبي رجاء، وھو مجھول، أخرجه الحاكم: 4/ 543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19184»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12987
وَعَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ يُقِرُّ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ فَقُلْتُ لَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ وَأَكْثَرَ مَا بُعِثَ نَبِيٌّ يُتَّبَعُ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ وَإِنِّي قَدْ بُيِّنَ لِي مِنْ أَمْرِهِ مَا لَمْ يُبَيَّنْ لِأَحَدٍ وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَعَيْنُهُ الْيُمْنَى عَوْرَاءُ جَاحِظَةٌ وَلَا تَخْفَى كَأَنَّهَا نُخَامَةٌ فِي حَائِطٍ مُجَصَّصٍ وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ مَعَهُ مِنْ كُلِّ لِسَانٍ وَمَعَهُ صُورَةُ الْجَنَّةِ خَضْرَاءُ يَجْرِي فِيهَا الْمَاءُ وَصُورَةُ النَّارِ سَوْدَاءُ تَدْخَنُ“
ابو و دک سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا خوارج دجال کے ظہور کا اقرار کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ہزار بلکہ اس سے زائد نبیوں کے بعد آیا ہوں، ہر نبی، جس کی پیروی کی گئی، نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، لیکن مجھے اس کی ایسی ایسی علامتیں بیان کی گئی ہیں جو کسی دوسرے نبی کو نہیں بتلائیں گئی تھیں، (یاد رکھو کہ) دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے،دجال کی داہنی آنکھ بھینگی اور اس طرح نمایاں ہوگی جیسے کسی چونہ گچ دیوار پر بلغم یا کھنکار کا نشان ہو اور اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے تارے کی مانند ہوگی، ہر زبان بولنے والے اس کے ساتھ ہوں گے، اس کے پاس جنت کے مشابہ سرسبز باغ ہوگا، جس میں پانی بہہ رہا ہوگا اور جہنم کے مشابہ بھی ایک سیاہ چیز ہو گی، جو دھواں چھوڑ رہی ہو گی۔ [الفتح الربانی/بيان العلامات الكبرى التي تظهر قبل قيام الساعة/حدیث: 12987]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد وعبد المتعال بن عبد الوھاب، أخرجه الحاكم: 2/ 597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11774»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں