الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. البعث وأول من يبعث من البشر
قیامت کے اچانک برپا ہو جانے اور سب سے آخرمیں مرنے والے آدمی کا بیان ¤ لوگوں کو ان کی قبروں سے اٹھائے جانے، میدان ِ حشر میں جمع کیے جانے اور ان کی اس وقت کی شدید گھبراہٹ کا بیان ¤ لوگوں کو اٹھائے جانے کا اور سب سے پہلے اٹھائے جانے والے بشر کا بیان
حدیث نمبر: 13075
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ وَيَكْسُونِي رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى حُلَّةً خَضْرَاءَ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَقُولَ: فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ“
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں اور میری امت ایک بلند ٹیلے پر ہوں گے، میرا ربّ مجھے سبز رنگ کا لباس پہنائے گا، پھرمجھے اجازت دی جائے گی اور جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، میں اس کی تعریف کروں گا، یہی مقامِ محمودہوگا۔ [الفتح الربانی/بيان قيام الساعة، النفخ فى الصور، وبعث الناس من قبورهم/حدیث: 13075]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابن حبان: 6479، والحاكم: 2/ 363، والطبراني في الكبير: 19/ 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15875»
وضاحت: فوائد: … یہ وہی مقام محمود ہو گا، جہاں رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ ریز ہو کر اللہ تعالیٰ کے سکھائے ہو ئے کلمات کے ذریعے اس کی حمد و ثنا بیان کریں گے اور پھر وہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت کے بعد اپنی امت کے لیے شفاعت کریں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13075 in Urdu