🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. طلب بعض أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم شفاعته لهم وشفاعته ﷺ لكل من مات لا يشرك بالله شيئا
بعض صحابہ کا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13113
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ فَقُمْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ أَرَهُ فِي مَنَامِهِ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدَثَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا أَنَا بِمُعَاذٍ قَدْ لَقِيَ الَّذِي لَقِيتُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ فَقَالَ ”أَنْتُمْ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فِي شَفَاعَتِي“
۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دیا کرتے تھے، میں ایک رات کو اٹھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آرام گاہ میں نہیں دیکھا، مجھے تو اگلے پچھلے تمام اندیشوں نے آگھیرا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلا، اس دوران سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، ان کو بھی وہی پریشانی لاحق تھی، جو مجھے ہوئی تھی، … اس کے بعد گزشتہ حدیث کی مانند ہی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اور ہر وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہوگا، کے حق میں میری شفاعت ہو گی۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13113]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الصغير: 784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19847»
وضاحت: فوائد: … یہ صحابۂ کرام کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت تھی۔
اس حدیث میں صرف ایک دفعہ اختیار دینے کا ذکر ہے اور وہ نصف امت کے جنت میں داخلہ اور شفاعت کے درمیان ہے۔ (مسند محقق: ۳۲/ ۳۹۴)۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 13113 in Urdu