الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. طَلْبُ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَفَاعَتَهُ لَهُمْ وَشَفَاعَتُهُ ﷺ لِكُلِّ مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا
بعض صحابہ کا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
حدیث نمبر: 13116
وَعَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَالَ ”أَنَا فَاعِلٌ بِهِمْ“ قَالَ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ”اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ“ قَالَ قُلْتُ فَإِذَا لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ ”فَأَنَا عِنْدَ الْمِيزَانِ“ قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ ”فَأَنَا عِنْدَ الْحَوْضِ لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ مَوَاطِنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ قیامت کے دن آپ میرے حق میں سفارش کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی میں قیامت کے دن لوگوں کے حق میں شفاعت کروں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے نبی! میں اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاں تلاش کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے سب سے پہلے پل صراط پر تلاش کرنا۔ میں نے کہا: اگر آپ سے میری ملاقات پل صراط پر نہ ہو سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توپھر میزان کے پاس مجھے تلاش کرنا۔ میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی میں آپ کو نہ پا سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میں حوض کو ثر کے پاس ہوں گا، قیامت کے دن میں ان تین مقامات میں سے کسی ایک پر ہی ہوں گا۔ [الفتح الربانی/بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة/حدیث: 13116]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 2433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12856»
الحكم على الحديث:
صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13116 in Urdu