🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. من يطردون عن الحوض نعوذ بالله من ذلك
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13142
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَإِذَا لَمْ تَرَوْنِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ قَدْرُ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِقِرَبٍ وَآنِيَةٍ فَلَا يَطْعَمُونَ مِنْهُ شَيْئًا“
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں گا، جب تم مجھے کسی اور جگہ نہ پاؤ تو میں حوض پر ملوں گا، اس کی وسعت اتنی ہے، جتنی ایلہ سے مکہ مکرمہ تک مسافت ہے، بہت سے مرد اور عورتیں مشکیزے اور برتن لے کر ادھر آئیں گے، مگر وہ وہاں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13142]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط: 753، والبزار: 3481، وابن حبان: 6449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14776»
وضاحت: فوائد: … ۱۔ اس فصل کی احادیث میں بھی حوض کوثر کا اثبات ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے جا کر حوض پر امت کا انتظار کریں گے اور آنے والوں کو پانی پلائیں گے۔ البتہ اس امت کے نافرمانوں، بدعتیوں کو حوض سے بائیں جانب لے جایا جائے گا اور انہیں حوض پر آنے سے روک دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے کہ اے ربّ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں بہت زیادہ تبدیلیاں کر دی تھیں۔ اس لیے یہ لوگ آب کوثر کے حق دار نہیں ہیں۔
۲۔ نیز معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب نہیں ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کچھ کیا؟
۳۔ اس فصل سے قبرستان جانے کی دعا بھی معلوم ہوئی۔
۴۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد آنے والے اپنی امت کے افراد کو اپنے بھائی اور ان کو دیکھنے کی تمنا کا اظہار فرمایا: گویاامت کے افراد کو نبی کر یم کے بھائی کہا جاسکتا ہے۔ اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
۵۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وضو کی برکت سے اس امت کے افراد کے چہرے ہاتھ اور پاؤں روشن ہوں گے۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ یہ امت محمدیہ کے فرد ہیں۔
۶۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اگرچہ کچھ لوگ بدعتی اور بے عمل ہوں گے تاہم وضو کی وجہ سے ان کے اعضاء روشن ہوں گے۔
۷۔ اور انہیں بدا عمالیوں کی وجہ سے آب کوثر سے محروم رکھاجائے گا۔ (نعوذ باللہ تعالیٰ من ذلک۔ آمین)

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 13142 in Urdu