الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. عَدْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقَضَاءِ وَرَحْمَةُ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ وَسَتْرُهُ وَفَضِيحَةُ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَخِزْيُهُ
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13170
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَقُولُ أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا أَظَلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ قَالَ لَا يَا رَبِّ فَيَقُولُ أَلَكَ عُذْرٌ أَوْ حَسَنَةٌ فَيَبْهَتُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ فَيَقُولُ بَلَى إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً وَاحِدَةً لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ فَتُخْرَجُ لَهُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولُ احْضِرُوهُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ قَالَ فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كَفَّةٍ قَالَ فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ وَلَا يَثْقُلُ شَيْءٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک آدمی کو لوگوں کے سامنے سے الگ کر ے گا اور ا س کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے رجسٹر پھیلا دئیے جائیں گے، ہر رجسٹر تاحدِّ نگاہ ہو گا، اللہ تعالیٰ اس بندے سے فرمائے گا:کیا تو ان گناہوں میں سے کسی گناہ کا انکار کرتا ہے؟ کیا میرے مقرر کر دہ لکھنے والے محافظ فرشتوں نے تجھ پر ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! نہیں، جی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر یا نیکی ہے؟ وہ آدمی حیران و پریشان ہو کر کہے گا: اے میرے ربّ! نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے، آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، اس کے سامنے ایک ٹکڑا لایا جائے گا، اس پر کلمہ شہادت اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ تحریر ہوگا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کو بھی سامنے لاؤ۔ وہ بندہ کہے گا: اے میرے ربّ! اتنے بڑے بڑے رجسٹروں کے مقابلے میں اس معمولی سے ٹکڑے کی کیا وقعت ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا: آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، چنانچہ وہ تمام رجسٹر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دئیے جائیں گے اور وہ ہلکا ہونے کی وجہ سے اوپر اٹھ جائیں گے اور وہ ٹکڑا بھاری ہو جائے گا، اصل بات یہ ہے کہ مہربان اور نہایت رحم والے اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز وزنی نہیں ہو سکتی۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13170]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الترمذي: 2639، وابن ماجه: 4300، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6994»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13170 in Urdu