الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. عَدْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقَضَاءِ وَرَحْمَةُ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ وَسَتْرُهُ وَفَضِيحَةُ الْكَافِرِ وَالْمُنَافِقِ وَخِزْيُهُ
فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13171
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَكُونَ فِيمَا يُسْأَلُ عَنْهُ أَنْ يُقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُنْكِرَ الْمُنْكَرَ إِذَا رَأَيْتَهُ قَالَ فَمَنْ لَقَّنَهُ اللَّهُ حُجَّتَهُ قَالَ رَبِّ رَجَوْتُكَ وَخِفْتُ النَّاسَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم میں سے ایک آدمی سے مختلف سوالات کیے جائیں گے، یہاں تک کہ اس پوچھ گچھ کے دوران اس سے یہ بھی پوچھا جائے گا: جب تو نے دنیا میں گناہ کو دیکھا تھا تو نے اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ تو جس بندے کو اللہ تعالیٰ جواب سمجھا دے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تیری رحمت کی امید تھی اور میں لوگوں سے ڈر گیا تھا۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13171]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحميدي: 739، والبيھقي في الشعب: 7575، وابويعلي: 1344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11232»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 13171 in Urdu